خالد حقانی: پاکستان کا جمہوری نظام اور آئین دونوں کفر

- مصنف, احمد ولی مجیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستانی طالبان کی قیادت پہلی بار قبائلی علاقہ جات سے نکل کر ملک کے بندوبستی علاقوں میں منتقل ہوئی ہے اور سوات سے تعلق رکھنے والے تحریک کے نئے سربراہ کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے شیخ خالد حقانی کو باضابطہ کالعدم تحریک کا نائب امیر مقرر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں بہت سے حلقوں کے لیے خالد حقانی کا نام نیا ہے لیکن تحریک طالبان کے تمام دھڑے انھیں اچھی طرح جانتے ہیں۔وہ ان دھڑوں میں مقبول رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ان کے نام کے ساتھ حقانی کا لاحقہ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے درس نظامی کی تعلیم مکمل کرنے کی وجہ سے ہے اور جب پاکستان میں تحریک طالبان بنی تو خالد حقانی اس کا حصہ بنے۔ اسی تعلیمی پس منظر کی بنا پر انہیں ’شیخ‘ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔
تحریک کی جانب سے جتنے بھی فتوے جاری ہوتے ہیں ان پر تیس سالہ شیخ خالد کے دستخط ہوتے ہیں۔ وہ عصمت اللہ شاہین سے پہلے طالبان شوریٰ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
خالد حقانی کا طالبان کے سابق سربراہان بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود سے انتہائی قریبی تعلق رہا ہے۔
گزشتہ سال مئی اور اس سال ستمبر میں پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں مجھے ان سے گفتگو کا موقع ملا تو میں نے محسوس کیا کہ ان کی پاکستان اور افغانستان کی اندورنی سیاست پر گہری نظر تھی۔
پاکستان میں رائج جمہوری نظام اور آئین پاکستان سے متعلق ان کی رائے بہت واضح ہے اور وہ ان دونوں کو کفر سمجھتے ہیں۔
اس سال ستمبر میں بات چیت کے دوران جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا پاکستان کی نئی حکومت سے مذاکرات کا کوئی امکان ہے اور کیا مذاکرات ہونے والے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس کی اصل اتھارٹی تو طالبان کے قائد حکیم اللہ محسود اور طالبان کی شوری کے پاس ہے لیکن انہیں ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی اداروں میں واضح تقیسم موجود ہے اور وہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہیں اس بات کا یقین تھا کہ پاکستان کی حکومت امریکی دباؤ برداشت نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی فوج اور حکومت طالبان کے معاملے پر ایک نقطۂ نظر نہیں رکھتی۔
طالبان کو نظریاتی طور پر منظم کرنے میں شیخ خالد حقانی کا بہت اہم کردار رہا ہے۔







