مہاراشٹر کی ہار: کیا مودی کا سمٹتا اقتدار عوام کے بدلتے خیالات کی عکاسی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
انڈیا کی دوسری بڑی ریاست مہاراشٹر میں جمعرات کو سیاسی جماعتوں شیوسینا، کانگریس اور نیشنیلسٹ کانگریس کی اتحادی حکومت قائم ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک کی ایک اور ریاست کے اقتدار سے بے دخل ہو گئی۔
بی جے پی 2017 میں انڈیا کے 71 فیصد حصے پر اقتدار میں تھی۔ اب اس کا اقتدار سمٹ کر 40 فی صد ریاستوں تک ہی محدود ہو گیا ہے۔ بڑی ریاستوں میں اب صرف اتر پردیش پر اس کی حکومت ہے۔ مہاراشٹر میں اقتدار کھونا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل دونوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔
ہندو قوم پرست جماعت شیو سینا بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی تھی اور مہاراشٹر میں ان کی مخلوط حکومت تھی۔ ریاست کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور شیوسینا نے ایک محاذ کے طور پر انتخاب لڑا تھا۔
مہاراشٹر کی 288 رکنی اسمبلی میں شیو سینا کو 56 اور بی جے پی کو 105 نشستیں حاصل ہوئی جو حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے زیادہ تھیں۔ لیکن حکومت کی تشکیل سے قبل شیو سینا نے یہ مطالبہ کر دیا کہ اس مرتبہ ریاست کا وزیر اعلیٰ ان کی جماعت سے ہو گا۔ بی جے پی اس کے لیے تیار نہیں تھی اس لیے دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے سے سیاسی اتحاد توڑ لیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی تھیں جو ہمیشہ بی جے پی اور شیو سینا کے خلاف رہی ہیں۔ اس بار بھی دونوں جماعتوں نے شیو سینا اور بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑا تھا۔
لیکن ریاست کی پلٹتی ہوئی سیاسی بساط پر انھیں غیر متوقع طور پر اقتدار ہاتھ میں آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ آپسی نظریاتی اختلافات بھول گئیں اور انھوں نے شیو سینا کی قیادت میں حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر دیا۔
حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، شیو سینا سے اتنے بڑے سیاسی دھچکے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نے شیو سینا اور کانگریس کی حکومت بننے سے پہلے ہی ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا۔
مہاراشٹر اقتصادی طور پر ملک کی سب سے اہم ریاست ہے۔ بی جے پی اتنی آسانی سے مہاراشٹر کا اقتدار شیو سینا اور کانگریس کے ہاتھ میں جانے دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نے انتہائی ڈرامائي انداز میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما اجیت پوار کو اپنے ساتھ ملا لیا اور گورنر کی مدد سے صبح آٹھ بجے دیوندر فڈ نویس کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے فڈنویس کی حکومت کو اگلے ہی روز مہارشٹر اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا۔ بی جے پی کے پاس اسمبلی میں مطلوبہ عددی اکثریت نہیں تھی۔ انھوں نے اسمبلی میں اکثریتی ووٹ کی گنتی سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔
جمعرات کو شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے ممبئی کے شیواجی پارک میں اپنے ہزاروں حامیوں کی موجودگی میں ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ وہ شیو سینا کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں۔
ان کی حکومت میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کے وزرا بھی شامل ہوں گے۔ ایسا پہلی بار ہے جب تینوں جماعتیں باضابطہ طور ایک ساتھ آئی ہیں اور انھوں نے ایک مخلوط حکومت بنائی ہے۔
تینوں جماعتوں نے اپنے نظریاتی اختلافات کو الگ رکھ کر ایک مشترکہ پروگرام وضع کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سیکولرزم کے اصولوں پر عمل پیرا رہیں گی۔
مہاراشٹر میں شیو سینا کی قیادت میں حکومت کا قیام اور اودھو ٹھاکرے کا وزیر اعلیٰ بننا، بی جے پی کے لیے انتہائی بڑا دھچکا ہے۔ اس کے اثرات آئندہ برس ہونے والے ریاستی انتخابات پر پڑ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شیو سینا، بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ سخت گیر قوم پرست ہندو جماعت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن گذشتہ عشرے میں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے عروج کے بعد ہندوتوا کی سیاست کا سارا فائدہ بی جے پی کو ہونے لگا تھا۔ بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں ہونے کے باوجود شیو سینا کا اثر مہاراشٹر میں تیزی سے گھٹ رہا تھا اور بی جے پی اس کی جگہ لیتی جا رہی تھی۔
گذشتہ برسوں میں ہجومی تشدد، گائے کے سوال اور شہریت کے ترمیمی بل جیسے سوالات پر شیو سینا کا موقف بی جے پی سے الگ تھا۔ وہ بدلتے ہوئے سیاسی پس منظر میں اپنی سیاست کو نیا رخ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کے ساتھ حکومت بنانا شیوسینا کا ماسٹر سٹروک ہے۔
ادھر قیادت کے بحران کا شکار اور شکست خوردہ کانگریس ایک اور ریاست میں اقتدار میں آ گئی ہے۔
شیو سینا جیسی سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت سے کانگریس کا اتحاد ملک کی بدلتی ہوئی سیاست کا عکاس ہے۔ وہ قوم پرستی کے موجودہ ماحول میں نرم ہندوتوا کے راستے پر گامزن ہے۔ انڈیا کی سیاست میں نظریے کی لکیر اب دھندلی پڑتی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم نریندر مودی ذاتی طور پر اب بھی ملک کے مقبول رہنما ہیں۔ لیکن ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت اور حالیہ ریاستی انتخابات میں خراب کارکردگی کچھ حد تک عوام کے بدلتے ہوئے موڈ کی غمازی کرتی ہے۔
شیو سینا کے کانگریس کے ساتھ آنے سے پارلیمنٹ بالخصوص راجیہ سبھا میں مودی حکومت کی مشکلیں بڑھیں گی۔ حکومت شہریت کے ترمیمی بل سمیت کئی اہم بل موجودہ اجلاس میں پیش کرنے والی ہے۔
ایوان میں اپوزیشن کی مخالفت اب پہلے سے زیادہ سخت اور شدید ہو گی۔ کچھ عرصے قبل تک پورے ملک میں بی جے پی کی جو یکطرفہ فضا نظر آتی تھی اس میں یقینی طور پر ہلکی ہی صحیح لیکن تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔











