مہاراشٹر وزیر اعلی اشوک چوان کا استعفی منظور

کارگل کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی بیواؤں کے لیے مختص زمین پر ممبئی میں بنی متنازعہ عمارت آدرش سوسائٹی میں مبینہ بدعنوانی کے تنازعہ کے بعد مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوان اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
مہاراشٹر کے گورنر نے اشوک چوان کا استعفی منظور کرلیا ہے۔
گورنر ہاؤس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’اشوک چوان کا استعفی منظور کرلیا گیا ہے۔ نئے وزیر اعلی کے تقرری ہونے تک وہ اپنے عہدے پر بنے رہیں گے‘۔
منگل کی صبح کانگریس پارٹی نے اشوک چوان سے استعفی دینے کے لیے کہا تھا ۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جنرادن دیودی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تفتیش مکمل ہونے تک مہاراشٹر کے وزیر اعلی کے استعفی کی پیش کش قبول کرلی گئی ہے‘۔
ممبئی کے قلابہ علاقہ میں فوجی جوانوں کے لیے مختص زمین پر چھ منزلہ کے بجائے اکتیس منزلہ عمارت بنی ہے جس میں کرگل میں مارے جانے والے فوجیوں کی بیواؤں کو گھر دینے کے بجائے اس میں سیاسی لیڈران اور بیوروکریٹس نے اپنے قریبی رشتہ داروں کوفلیٹ الاٹ کیے۔ اس عمارت میں فوج کے سابق سربراہان کو بھی فلیٹ الاٹ کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق فوجیوں کے لیے مختص زمین پر عمارت میں عام شہریوں کو چالیس فیصد حصہ دینے کے لیے اس وقت کے وزیر محصولات اشوک راؤ چوان نے منظوری دی تھی۔
اشوک چوان نے کہا ہے کہ اس تنازعہ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے حالانکہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سوسائٹی میں انکے بعض رشتے داروں کے فلیٹس ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی بی آئی اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔
منگل کو پارلیمان کا ونٹر سیشن شروع ہو رہا ہے۔ سیشن کے دوران اس معاملے پر حزب اختلاف کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی امید ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ کانگریس پارٹی نے چوان سے استعفی کا کہا ہے۔







