ایران: تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ملک گیر احتجاج

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کے اعلان کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ جمعے کو پیٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
حکام نے پیٹرول کی قیمتوں میں رعایت یا سبسڈی کو کم کر دیا ہے جس کا مقصد امریکے کی طرف سے لگائی گئی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
ایران امریکہ کی جانب سے سنہ 2018 میں جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد تیل کی برآمدات پر سخت پابندیوں کو سامنا کر رہا ہے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے شہر سرجان کے مرکز میں جمعہ کی شب مظاہرے ہوئے جن میں لوگوں نے تیل کے ایک بڑے ذخیرے پرحملہ کیا اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
نیم سرکاری خبررساں ایجنسی اسنا نے سرجان کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ہنگامہ آرائی میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔
مشہد، برجاند، اہواز، گچساران، آبدان، شیراز کے علاوہ کئی دیگر کچھ شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں مظاہرین نے شاہراؤں کو اپنی ہی گاڑیوں سے بلاک کر دیا۔
تہران کے حوالے سے پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں موٹرسائیکل سواروں کو بھی احتجاج کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جو امام رلی ہائی وے پر ٹریفک روک رہے ہیں اور نعروں کے ذریعے پولیس سے حمایت کرنے کو کہہ رہے ہیں۔
ایک اور کلپ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے موقع پر تہران کرج موٹروے بلاک دکھائی دے رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
نئے حکومتی اقدامات کے تحت ہر گاڑی چلانے والے کو ایک ماہ میں تیرہ گیلن یعنی 16 لیٹر پیٹرول لینے کی اجازت ہو گی جس کی قیمت 15000 ریال بنتی ہے، تاہم اس سے زیادہ پحٹرول خریدنے کی صورت میں ہر اضافی لیٹر کی قیمت 30 ہزار ریال ہوگی۔
اس سے پہلے ہر شخص کو رعایتی نرخوں پر 250 لیٹر پیٹرول لینے کی اجازت تھی۔
ایران میں منصوبہ بندی اور بجٹ کے ادارے کے سربراہ محمد باقر نوبخت نے کہا ہے کہ رواں ماہ سے ایک کروڑ 80 لاکھ خاندانوں کو کیش کی صورت میں اضافی الاؤنس ملے گا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ صدر حسن روحانی نے سنیچر کو کہا کہ 75 فیصد ایرانی عوام ابھی دباؤ میں ہیں اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ملنے والی اضافی رقم ان لوگوں کو جائے گی، خزانے میں نہیں۔
یاد رہے کہ ایران ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں دنیا میں سستا ترین تیل دستیاب ہے اس کی وجہ بھاری سبسڈی اور ایرانی کرنسی کی ویلیو کم ہونا ہے۔
ایران تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور ایران ہرسال اربوں ڈالر کا تیل برآمد بھی کرتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر گذشتہ سال دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ انھوں نے 2015 میں ایران امریکہ اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔
اس معاہدے کے بعد ایران نے متازع جوہری اقدامات کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ملک میں آنے کی اجازت دیں گے تاکہ پابندیوں کو کم کیا جا سکے۔
اقتصادی و تجارتی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو بہت تیزی سے کمزور کیا ہے اور اس کی وجہ سے ملکی کرنسی کی قدر ریکارڈ سطح تک کم ہوئی ہے، اور بیرونی سرمایہ کاری میں بھی کمی آ گئی ہے۔











