جب ایران میں خواتین نے 40 برس بعد سٹیڈیم میں میچ دیکھنے پہنچیں

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
ایرانی خواتین نے کئی دہائیوں کے بعد تہران کے سٹیڈیم میں مردوں کا ایک فٹبال میچ دیکھا ہے۔
حکومت کی جانب سے انھیں یہ میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد خواتین پر سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے میچ دیکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
ایرانی میں فٹبال کے کھیل میں جنسی امتیاز کا معاملہ اس وقت عالمی سطح پر منظر عام پر آیا جب سحر خدایاری نامی لڑکی نے اس عدالت کے باہر خود کو آگ لگا لی جہاں ان کے خلاف مرد کے بھیس میں ایک فٹبال میچ دیکھنے کی کوشش کرنے پر مقدمہ چلایا جانا تھا۔ ایک ہفتے کہ بعد 29 سالہ سحر خدایاری کا انتقال ہو گیا تھا۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
اس واقعے کے بعد ایرانی حکومت پر عوام کی جانب سے بہت تنقید کی گئی اور خواتین کو اجازت دینے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا۔
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے بھی ایران پر دباؤ ڈالا کہ وہ خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت دے۔
تاہم ایرانی حکومت کے حالیہ فیصلے کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’سستی شہرت‘ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ خواتین شائقین کے لیے محدود ٹکٹ جاری کیے گئے۔ تنظیم نے خواتین کی شرکت پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعرات کو ساڑھے تین ہزار سے زیادہ خواتین نے ایران اور کمبوڈیا کے درمیان ورلڈ کپ کوالیفائر میچ دیکھا اور اس وقت ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب ایران نے یہ میچ صفر کے مقابلے میں 14 گول سے جیت لیا۔
تہران کے آزادی سٹیڈیم میں ان خواتین کے لیے مخصوص انکلوژر بنائے گئے تھے۔ سٹیڈیم میں 78 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔
اطلاعات کے مطابق خواتین کے ٹکٹ منٹوں میں فروخت ہو گئے۔
سٹیڈیم کے میں خواتین شائقین کو ایرانی پرچم لہراتے اور اپنی ٹیم کے لیے نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیفا نے اس ہفتے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مضبوطی سے اپنے موقف پر قائم ہے کہ ایران میں خواتین کو فٹبال میچوں تک مکمل رسائی حاصل ہو۔
سعودی عرب میں بھی گزشتہ برس خواتین کو فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ان اصلاحات کا حصہ تھا جن کے تحت قدامت پسند ملک میں خواتین سے متعلق کچھ قوانین کو نرم کیا جا رہا ہے۔










