ایرانی انسٹاگرام سٹار سحر تبار کو گرفتاری کے بعد پہلے ٹی وی انٹرویو میں ’زومبی‘ کہہ کر متعارف کروایا گیا

،تصویر کا ذریعہIRTV2
توہین مذہب کے الزام پر گرفتاری کے بعد ایرانی انسٹاگرام سٹار کا ٹی وی پر انٹرویو نشر کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اسے ’زبردستی لیا گیا اعترافِ جرم‘ قرار دیا ہے۔‘
انسٹاگرام پر مشہور سحر تبار کو امریکی اداکارہ انجلینا جولی سے مشابہت کی وجہ سے دنیا بھر میں پذیرائی ملی تھی۔ قیاس آرائیوں کے مطابق اس روپ کے لیے انھیں 50 پلاسٹک سرجریز کروانا پڑیں۔
5 اکتوبر کو انھیں توہین مذہب اور ملک کے لباس کی توہین سمیت دیگر الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ایرانی نیوز ایجسنی تسنیم کے مطابق عدالتی حکام نے سحر تبار کو اس وقت گرفتار کیا جب عوام کے ممبران نے مبینہ طور پر ان کے بارے میں شکایات کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہInstagram
’انجلینا جولی سے متاثر نہیں‘
ایرانین چینل ٹو پر ان کے انٹرویو کے دوران انھیں ’زومبی‘ کہہ کر متعارف کروایا گیا اور بعد میں ان کی طرف اشارہ کر کے کہا گیا کہ ’کیسے سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے پاگل پن نے ایک اصل زندگی کو تباہ کردیا ہے۔‘
چینل نے ان کا چہرہ دھندلا رکھا اور اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ وہ اپنے طلاق یافتہ والدین کی واحد اولاد ہیں۔
اس موقع پر سحر تبار کا کہنا تھا کہ ’میں فی الحال اپنی فوٹو شاپ کی گئی تصاویر جیسی نہیں دکھتی۔‘
انھوں نے مغربی میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ انھوں نے اپنا یہ روپ انجلینا جولی سے متاثر ہو کر نہیں اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت یہ چہرہ برطانوی امریکی فلم ’کورپس برائڈ‘ کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا جو کہ ایک ’مردہ دلہن‘ ہے۔
22 سالہ سحر نے بتایا کہ ’میں بچپن سے مشہور ہونا چاہتی تھی۔‘
ان کا یہ خواب گذشتہ سال پورا بھی ہوگیا تھا جب انھوں نے پہلی مرتبہ میک اپ اور فوٹو شاپ کی مدد سے اپنی تصاویر انسٹاگرام پر لگائی تھیں اور وہ وائرل ہوگئی تھیں۔
چینل نے ان کے بارے میں یہ تاثر دیا کہ انھیں اپنی ظاہری شکل تبدیل کرنے پر پچھتاوا ہے۔
’میری والدہ مجھے کہتی تھیں کہ ایسا مت کرو لیکن میں ان کی بات نہیں سنتی تھی۔ کبھی کبھار کسی اجنبی یا دوست کے الفاظ آپ کے والدین سے زیادہ اہم لگنے لگتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'ٹی وی پر زبردستی اعتراف'
سوشل میڈیا کے متعدد صارفین نے ایسے اعترافات پر تنقید کی ہے جنھیں زبردستی ٹی وی پر نشر کروایا جاتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا 'شحر تبار کو کس چیز کا اعتراف کرنا ہے؟ کیا پارلیمان میں ایسے بااصول لوگ موجود ہیں جو ٹی وی پر غیر اخلاقی اور ناجائز طور پر وصول کردہ اعترافات کو نشر کرنے پر پابندی لگا سکیں؟'
کئی صارف سحر تبار کے حق میں بولے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ 'انھیں ٹی وی پر دکھانا شرمناک اور بے ہودہ ہے۔ وہ ایک بیمار لڑکی ہے۔ ان سے زبردستی اعتراف لینا باعث شرم ہے۔'
ایک ٹویٹ میں کہا گیا 'انپوں نے شحر تبار کو ٹی وی پر ان کے میک اپ اور ٹیٹوز کی وجہ سے دکھایا۔ اس لیے بھی کہ وہ طلاق یافتہ والدین کی واحد اولاد ہیں اور اپنے انسٹاگرام پیج سے پیسے کما رہی ہیں۔ اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران میں ہم آزاد ہیں۔'
سحر تبار کو جب گرفتار کیا گیا تھا تب بھی ٹوئٹر پر ان کے حق میں آواز اٹھائی گئی تھی۔ ایک مزاحیہ جملے میں کہا گیا 'اگر انھیں معلوم ہوتا کہ ویڈیوز بنا کر وہ اتنا بڑا جرم کر رہی ہیں تو شاید وہ ایک کم خطر ناک اور کارآمد چیز کی طرف جاتیں، جیسے کرپشن، چوری اور قتل۔'

،تصویر کا ذریعہInstagram
سحر تبار کی گرفتاری
سحر کو توہین مذہب، تشدد پر اکسانے، غیر قانونی طور پر جائیداد کے حصول، ملک کے لباس کی توہین اور نوجوانوں کو بدعنوانی کرنے پر حوصلہ افزائی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔
سحر تبار گذشتہ برس اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئیں تھی جب انسٹاگرام پر ان کی تصاویر وائرل ہوئی تھی اگرچہ ان کے بارے میں یہ قیاس کیا گیا تھا کہ انھوں نے یہ روپ اختیار کرنے کے لیے 50 پلاسٹک سرجریز کروائی ہیں، جبکہ ان کی جانب سے پوسٹ کی گئی زیادہ تر تصاویر کو بہت زیادہ ایڈیٹ کیا گیا تھا۔
بی بی سی مشرق وسطیٰ کے تجزیہ کار سیبسٹن اوشر کے مطابق سحر تبار نامی 22 سالہ نوجوان انسٹاگرام سٹار نے تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے عالمی میڈیا کی توجہ مبذول کروائی تھی جن میں وہ انجلینا جولی کے زومبی ورژن سے مشابہت رکھتی تھی۔
پچکے گال، بڑے بڑے ہونٹ اور ایک کارٹون نما ابھری ہوئی ناک کی حامل سحر نے اس وقت کاسمیٹک سرجری کے حوالے تشویش پیدا کی تھی جب انھوں نے یہ کہا تھا کہ امریکی اداکارہ انجیلینا جولی سے مشابہت کے لیے انھوں نے درجنوں کاسمیٹک سرجریاں کروائی ہیں۔
لیکن انسٹاگرام پر اپنے بڑھتے ہوئے فالورز کو حیران اور خوفزدہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ ان کی تصاویر میں ظاہری شکل میک اپ اور ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کی بدولت ہے اور یہ کہ دراصل انھوں نے خود کو ایک طرح کے فنی خاکے میں تبدیل کر لیا ہے۔
ان کا شمار ایرانی سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فیشن بلاگرز کی اس طویل فہرست میں ہوتا ہے جب پر ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
ن کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد انٹرنیٹ پر حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔









