کشمیر: سید علی گیلانی کی پریس کانفرنس پولیس نے روک دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں پولیس نے حریت کانفرنس کے نظر بند رہنما سید علی گیلانی کو بدھ کے روز پریس کانفرنس سے روک دیا ہے۔
گذشتہ ماہ چار اگست کو وادی میں ذرائع مواصلات کی بندشوں اور لاک ڈاؤن کے بعد سے یہ پہلا موقع تھا کہ حریت کانفرنس کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔
سری نگر میں موجود بی بی سی کے صحافی ریاض مسرور بتاتے ہیں کہ انھیں اور دیگر صحافیوں کو اس حوالے سے دعوت نامے خطوط کے ذریعے بھیجے گئے کیونکہ ’خطوط ہی مواصلات کا واحد ذریعہ ہے۔‘
ریاض مسرور بتاتے ہیں کہ ’سبھی صحافیوں کو ایک اہم پریس کانفرنس کے لیے رہنما حریت کانفرنس سعید علی گیلانی کی رہائش گاہ پر مدعو کیا گیا تھا۔‘
حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی کو چار اگست کو ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا گیا تھا جو سری نگر کے نواہی علاقے حیدر پورہ میں واقع ہے۔
مزید پڑھیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چار اگست کو انڈیا کی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر پر لگائی گئی قدغنوں اور لاک ڈاؤن کو اب ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے۔
ریاض بتاتے ہیں کہ ’جب ہم وہاں پہنچے تو پولیس نے ہمیں بتایا کہ ہمارے یہاں جمع ہونے سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہو جائے گی اس لیے آپ یہاں سے نکل جائیں۔‘
نامہ نگار کے مطابق اس کے بعد صحافیوں اور پولیس کے درمیان کافی دیر مباحثہ بھی ہوا اور پھر انھوں نے سینیئر پولیس اہلکاروں کو وہاں بلا لیا۔
ان کے مطابق سینیئر پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کیونکہ انھیں اس پریس کانفرنس کے بارے میں پہلے سے اطلاع نہیں ہے، اس لیے اس پریس کانفرنس کو منعقد کرنے کے لیے ضلع مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔‘
ریاض کے مطابق وہاں اس حوالے سے تقریباً ایک گھنٹے تک تعطل بنا رہا، تاہم سعید علی گیلانی کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور بعد میں صحافی وہاں سے نکل گئے۔
اس سے قبل، انڈیا کی پارلیمان نے پانچ اگست کو واضح اکثریت سے وفاقی حکومت کے ذریعے ریاست کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔
اس فیصلے کے بعد سے وادی میں ذرائع مواصلات کی بندش اور غیر معمولی لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا گیا تھا اور وہاں موجود کشمیری رہنماؤں کو بھی نظر بند کر دیا گیا تھا۔
اب ان پابندیوں کو لگے 45 دن بیت چکے ہیں لیکن کشمیر میں معمولاتِ زندگی تاحال مفلوج ہیں۔
کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ جہاں پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیاسی کشیدگی کا باعث بنا ہے وہیں دونوں ملکوں کی درمیان سرحد پر کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔










