ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا، پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ایک بار بھر ثالثی کی پیشکش

ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اگر پاکستان اور انڈیا چاہیں‘ تو وہ مدد کرنے کے لیے تیار ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو وہ مدد کے لیے تیار ہیں۔

پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے تنازعے پر بات کی جس میں پانچ اگست کے بعد سے شدت آئی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو آئین کی شق 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا جس کی پاکستان کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔

اس اقدام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و سیاسی تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیر کو امریکی صدر نے ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اپنی ثالثی کی پیشکش دہراتے ہوئے کہا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کی شدت میں دو ہفتے پہلے کی نسبت کمی آئی ہے‘ اور وہ ’ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

’آپ جانتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کا کشمیر پر تنازع چل رہا ہے۔ میرے دونوں ممالک کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو انھیں معلوم ہے کہ [ثالثی کی پیشکش] موجود ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 ستمبر 2019 کو وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں سے گفتگو کر رہی ہیں

امریکی صدر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش پہلی بار 22 جولائی کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ان سے ثالث بننے کی درخواست کی تھی مگر نئی دہلی کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئی دہلی کی تردید پر ردِ عمل میں کہا گیا تھا کہ ’امریکی صدر اپنی طرف سے کچھ نہیں گھڑتے۔‘

پاکستان نے ثالثی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا تھا جبکہ انڈیا نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے جو دونوں ممالک دو طرفہ طور پر حل کر سکتے ہیں۔

انڈیا کے وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اگست میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے صرف تین دن قبل امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اگر اس متنازع خطے پر پاکستان کے ساتھ کوئی بات ہوئی بھی تو صرف دو طرفہ طور پر ہوگی۔

'کشمیر میں پابندیوں سے سب سے زیادہ بچے اور عورتیں متاثر'

سری نگر سے بی بی سی کی نامہ نگار پونم کوشل نے بی بی سی کے خصوصی ریڈیو پروگرام نیم روز کے لیے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر بچے اور وہ خواتین ہو رہی ہیں جو یا تو حاملہ ہیں یا جن کے بچے چھوٹے ہیں۔

دو ماہ وادی کشمیر میں گزار کر قطر واپس لوٹ رہی ایک خاتون نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو حاملہ عورتیں انھیں دقت ہوتی ہے، جب گاڑیاں نہیں ہوتیں اور ٹریفک بند ہے تو ہسپتال کیسے جائیں گے؟

حالات بچوں کے لیے بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں جن کا مسلسل کرفیو کے سبب تعلیمی حرج ہو رہا ہے۔ بچے نہ سکول جا پا رہے ہیں اور نہ ہی ٹیوشن سینٹر، جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی سال برباد ہونے کا اندیشہ ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار نے ایک گلی میں دو بچیوں سے بات کی جنھوں نے سکول جانے اور بڑے ہو کر ڈاکٹر بننے کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کے بقول 'ہڑتال' کے سبب سکول بند ہے۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں روایتی طور پر محرم کی آٹھویں، نویں اور دسویں تاریخ کو بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ تاہم اس بار وادی میں قید و بند کا ماحول ہے اور انتظامیہ نے گھر گھر یہ منادی کرادی ہے کہ چلاقے میں دفع 144 نافذ ہے

کشمیر میں یوم عاشور پر جلوس نکالنے پر پابندی

دس ستمبر کو یوم عاشور کے پیش نظر وادی میں مختلف قسم کی مزید پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے سرینگر سے خبر دی ہے کہ یوم عاشورہ کے موقعے پر احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

محرم اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے لیکن اسے پیغمبر اسلام کے نواسے اور حضرت علی کے بیٹے امام حسین کی شہادت کے تعلق سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

مگر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ماہ کو انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے وہاں کے حالات ابھی تک معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہر طرح کی تقاریب پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

کشمیر میں روایتی طور پر محرم کی آٹھویں، نویں اور دسویں تاریخ کو بڑے جلوس نکالے جاتے ہیں جس میں لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

لیکن اس بار وادی میں قید و بند کا ماحول ہے اور انتظامیہ نے گھر گھر یہ منادی کرادی ہے کہ وہاں تعزیرات ہند کی دفع 144 نافذ ہے اس لیے کسی جگہ چار سے زیادہ افراد کا جمع ہونا غیر قانونی ہے۔

کشمیر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناتوار کو سرینگرکے لال چوک سے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے لوگوں کو منتشر کر دیا

ہمارے نمائندے ریاض مسرور نے بتایا کہ 'سنہ 1990 میں جب سے کشمیر میں شدت پسندی کی ابتدا ہوئی ہے اس وقت سے اب تک کوئی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ شاہراہوں پر بڑے جلوسوں کی اجازت نہیں ملتی تھی لیکن گذشتہ 30 سالوں میں چھوٹے جلوسوں کی اجازت مل جاتی تھی۔ تاہم اس بار اسے پوری طرح سے بند کر دیا گیا ہے اور دفعہ 144 کو سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔'

تاہم خیر سگالی کے طور پر اہل تشیع کے رہنما عمران انصاری کو 7 محرم کے روز رہا کر کے اپنے گھر نظر بند کیا گیا ہے۔

5 اگست سے بھاری تعداد میں نیم فوجی اہلکار کشمیر میں تعینات ہیں اور وقفے وقفے سے نرمی کے اعلانات کے باوجود اہلکار اپنی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔

’رکاوٹوں اور بندشوں میں نرمی کے اعلان کے بعد بھی اہلکار تعینات رہتے ہیں اور صرف چند گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہوتی ہے۔‘

کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن9 ستمبر کو کھینچی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑکیں سنسان ہیں اور سرینگر میں صرف فوجیوں کی موجودگی نظر آ رہی ہے

جلوس کے علاوہ پرچم اور بینروں کے بارے میں انھوں نے بتایا: 'نوجوانوں نے لال بازار، لال چوک جیسے علاقوں میں بینرز اور پرچم ضرور لگائے ہیں لیکن سڑکوں پر انھیں کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو پابندیوں میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔

کچھ دن پہلے یہ افواہ اڑی تھی کہ حریت کے ذریعے اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب جلوس نکالا جانے والا ہے۔ اس افواہ کے بعد بھی انتظامیہ نے سختیوں میں اضافہ کر یا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پابندیوں کا یہ حال ہے کہ جو لوگ بیمار ہیں اور گاڑیوں میں جاتے ہیں انھیں بھی جانے نہیں دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے اور سختی کے ساتھ پابندیوں کو نافذ کیا جائے۔