صورہ: سرینگر کا نواحی علاقہ کشمیری مزاحمت کا نیا مرکز کیسے بنا؟
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
سرینگر کے نواح میں آنچار جھیل کے کنارے واقع صورہ کے علاقے میں کشمیر کی پہلی اور سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے بانی اور خود مختار کشمیر کے پہلے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کا آبائی مکان آج کل کھنڈرات کا ایک ڈھیر ہے۔
یہی وہ علاقہ ہے جہاں 30 سال قبل بھارتی کنٹرول کے خلاف مسلح شورش میں شامل ہونے کے لئے بڑی تعداد میں مقامی نوجوان شامل ہوئے تھے۔
اگرچہ یہاں آج بھی نیشنل کانفرنس کے حمایتی موجود ہیں، لیکن اب یہ علاقہ حکومت ہند کے لیے پریشانی کا سبب بن چکا ہے۔
کشمیر میں فی الوقت تاریخ کا سخت ترین محاصرہ اور مواصلاتی تعطل جاری ہے لیکن کشیدگی کے دوران صورہ کے لوگ آئے روز مظاہرے کرتے ہیں اور حکومت کے اُس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کے تحت کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
کشمیر کے تجارتی مرکز لال چوک سے مشرق کی جانب 13 کلومیٹر دُور واقع صورہ دہائیوں سے سب سے بڑے ہسپتال شیرِ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا سکمز کی وجہ سے مشہور تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانچ اگست کو جب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے جموں کے ساتھ ملا کر مرکز کے زیراہتمام خطہ قرار دیا گیا تو جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کو بھی سخت ترین کرفیو اور مواصلاتی شٹ ڈاؤن سے ایک وسیع قید خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔
حکومت کا اصرار تھا کہ دفعہ 370 ہٹانے کے بعد کشمیر میں کوئی مظاہرہ نہیں ہوا اور نہ کوئی ہلاکت ہوئی لیکن صرف تین روز بعد صورہ میں جناب صاحب کی درگاہ میں لوگ جمع ہوگئے اور باہر کی شاہراہ پر آتے آتے جلوس میں ہزاروں لوگ جمع ہو چکے تھے۔
لوگوں نے پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے پرچم اُٹھا رکھے تھے۔ پولیس نے ہوا میں فائرنگ کی، جلوس پر آہنی چھرے اور اشک آور گیس کے گولے فائر کیے، کئی افراد زخمی ہوئے اور اس طرح جلوس کو لال چوک پہنچنے سے روک دیا گیا۔
بعد میں صورہ اور گردونواح میں پابندیاں سخت کر دی گئیں۔ انڈین حکومت نے کئی دنوں تک اس واقعے کی تردید کی اور بی بی سی پر نشر ہونے والی اس واقعے کی تصویروں کو جھٹلایا گیا تاہم عالمی میڈیا نے اس واقعے کی مفصل رپورٹنگ کی۔
سخت ترین پابندیوں کے باوجود صورہ کے علاقوں جناب صاحب اور آنچار میں لوگوں نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے گو ان کا دائرہ اندرونی صورہ تک ہی محدود ہے۔
نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے علاقے میں آنے جانے کے راستوں کو خود ہی سیل کر دیا ہے تاکہ سکیورٹی فورسز اندر نہ آنے پائیں۔
نوجوانوں نے مختلف گروپ تشکیل دیے ہیں جو باری باری رات کے دوران محلے کی سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور اگر سکیورٹی فورسز کی آمد کا کوئی امکان ہو تو دکانوں کے شٹر بجا کر آبادی کو الرٹ کیا جاتا ہے۔
مقامی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ صورہ کے گردونواح کی پانچ کلومیٹر کی پٹی میں کم از کم پچاس نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم سرکاری طور گرفتاریوں کی تعداد نہیں بتائی جا رہی۔ کشمیر پولیس کے اعلیٰ افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں عنقریب ایک وسیع کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ صورہ کا علاقہ ایک طرف سے آنچار جھیل سے گھرا ہوا ہے اور دوسری طرف ہسپتال کی لمبی فصیل ہےاور اندر جانے کے صرف دو راستے ہیں، اس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز جناب صاحب اور آنچار کے علاقوں میں مظاہروں پر قابو نہیں پا سکتیں۔
تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹیلی فون، موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پابندی کے درمیان وہاں کے لوگ مظاہروں کے بارے میں ایک دوسرے کو کیسے مطلع کرسکتے ہیں۔
ایک نوجوان نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’دفعہ 370 ہٹانے کا اعلان ہوتے ہی ہم نے سوچا کہ اب سب کچھ بند ہو جائے گا۔ ہم نے خطوط لکھے اور لوگوں میں بانٹنا شروع کیے، یہی وجہ ہے کہ ایک بڑا جلوس نکالنے میں ہمیں تین دن لگے۔`

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat
صورہ کشمیر کے انتخابی نقشے پر گاندربل حلقے کا حصہ ہے اور یہ فاروق عبداللہ کے والد اور عمرعبداللہ کے دادا کا آبائی حلقہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے بعد فاروق عبداللہ اور اُن کے بعد عمرعبداللہ بھی اسی حلقے سے الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ لیکن کئی سال ہوگئے کہ گاندربل حلقے سے عبداللہ خانوادے کے کسی بھی لیڈر نے الیکشن نہیں لڑا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ صورہ کی آبادی کے ایک حصے کا جھکاؤ ضرور نیشنل کانفرنس کی طرف ہو گا، لیکن گذشتہ 30 سال کے دوران اس علاقے کے لوگوں میں انڈیا مخالف جذبات پروان چڑھے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج جب پورے کشمیر پر ایک خوفناک خاموشی طاری ہے، صورہ کے جناب صاحب اور آنچار علاقوں کی آبادی حکومت کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ میں مصروف ہے۔













