پاکستان میں انڈیا کے یومِ آزادی پر یومِ سیاہ، مودی کا اعلان کہ ’ہم مسئلے ٹالتے ہیں، نہ پالتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انڈین آئین سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جو کام مختلف حکومتیں جموں و کشمیر میں 70 برس میں نہ کر سکیں وہ انھوں نے 70 دن میں کر دکھایا ہے۔
جمعرات کو انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر دلی کے لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شق 370 کو ختم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'کشمیر کے حل لیے ایک نئی سوچ کی ضرورت تھی۔ ہم مسئلے ٹالتے ہیں نہ مسئلے پالتے ہیں۔ ہم نے 70 دن میں وہ کر دکھایا جو مختلف حکومتیں 70 برس میں نہ کر سکیں۔'
ادھر پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈیا کے یومِ آزادی کے موقع پر یومِ سیاہ منایا جا رہا ہے اور انڈین حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نریندر مودی نے کہا کہ شق 370 کا ختم کیا جانا ملک کے پہلے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خوابوں کی تعبیر کی طرف پہلا قدم ہے۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
انھوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو جواب دینے کے بجائے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس شق کی حمایت کرتے ہیں وہ یہ بتائیں کہ اگر اس عبوری شق سے جموں وکشمیر کو فائدہ پہنچ رہا تھا تو انھوں نے اسے آئین کا مستقل حصہ کیوں نہیں بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی نے کہا کہ شق 370 سے جموں وکشمیر میں صرف علیحدگی پسند اور شرپسند عناصر کو ہوا ملی اور اس نے ریاست میں بدعنوانی اور خواتین و کمزور طبقوں کے ساتھ تفریق اور نا انصافی کے نظام کو جنم دیا۔
انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کی کھوئی ہوئی عظمت واپس لائیں گے۔ مودی نے کہا 'ایک ملک ایک آئین کی پالیسی اب حقیقت بن چکی ہے اور ملک کو اس پر فخر ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف آف ڈیفنس سٹاف کا نیا عہدہ
وزیراعظم مودی نے کشمیر پر بات کرنے کے علاوہ کچھ مزید اعلانات بھی کیے۔ انڈیا کی تاریخ میں اب پہلی مرتبہ چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ ہو گا۔
وزیراعظم مودی نے ’ملک کی مسلح افواج کے درمیان ایک مربوط نظام قائم کرنے کے لیے‘ اس عہدے کی تشکیل کا اعلان کیا۔
اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا 'تینوں افواج کے درمیان ربط کو اور زیادہ بہتر بنانے کے لیے میں ایک اہم اعلان کررہا ہوں۔ انڈیا میں اب ایک چیف آف ڈیفنس سٹاف ہو گا۔ اس سے انڈیا کی فورسز مزید موثر ہوں گی ۔'

،تصویر کا ذریعہDD NEWS
پاکستان کا ذکر غائب
انڈین وزیراعظم نے اپنی طویل تقریر میں کہیں پر بھی پاکستان کا ذکر نہیں کیا تاہم ایک مرتبہ بالواسطہ طور پر پڑوسی ملک کا ذکر آیا۔
ان کی تقریر کا محور انڈیا کے وہ لوگ تھے جو کشمیر سے متعلق ان کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔تاہم وزیراعظم نے کشمیر میں کرفیو، سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری اور ذرائع مواصلات کی مکمل بندش جیسے معاملات پر بھی کوئی بات نہیں کی۔
انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ کشمیر کی ایک بڑی اکثریت 370 ختم کیے جانے کے فیصلے سے خوش ہے لیکن کشمیر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا جاتا ہے کہ لوگ بری طرح برہم ہیں اور اس کے خلاف احتحاج کرنے کے لیے پابندیاں ہٹنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کشمیر میں لوگ اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں تو پھر پورے کشمیر کے چپے چپے پر فوج اتارنے کی ضرورت کیوں پڑی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال پرامن ہے تاہم پوری وادی میں فون، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند ہیں جبکہ سرینگر سے باہر بیشتر علاقوں میں آنے جانے پر سخت پابندی ہے اس لیے وادی کے بیشتر علاقوں کے بارے میں کچھ جان پانا بہت مشکل ہے۔
جموں و کشمیر جمعرات کو بھی پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے۔ کرفیو اور سخت بابندیوں کے درمیان سرینگر میں بھی انڈین یوم آزادی کی تقریب منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر گورنر ست مال ملک کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوبال بھی وہاں موجود تھے ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمران خان کا رد عمل
جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیر میں ’12 روز سے جاری کرفیو, پہلے ہی سے فوجی کثرت والے مقبوضہ علاقے میں مزید فوجوں کی تعیناتی، آر ایس ایس کے غنڈوں کو مقبوضہ وادی میں بھجوانے، اطلاعات و وسائلِ ابلاغ کی مکمل بندش اور گجرات میں مودی کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی نظیر سامنے رکھتے ہوئے کیا دنیا خاموشی سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور سربرینیکا جیسے ایک اور قتل عام کا نظارہ کرے گی؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اقوام عالم کو متنبہ کرتا ہوں کہ اگر اس کی اجازت دی گئی تو مسلم دنیا سے شدید ردعمل اور سنگین نتائج برآمد ہوں گے، انتہاپسندی کو ہوا ملے گی اور تشدد کا نیا دور ابھرے گا۔‘
وزیراعظم عمران خان نے اس سے قبل بدھ کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر مظفر آباد میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ 'آپ ایکشن لیں ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔'
عمران خان نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اٹھا رہا ہے اور اب یہ اقوامِ متحدہ پر ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق قراردادوں پر کیسے عمل کرواتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا کشمیر میں ہونے والے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 'ایکشن' کر سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم عالمی عدالتِ انصاف میں جائیں گے۔ میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔'











