کشمیر: سرینگر میں چند گھنٹوں کی نرمی کے بعد پھر ’لاک ڈاؤن‘

،ویڈیو کیپشنجمعے کو سری نگر کے علاقے صورہ میں مظاہرین کو پولیس کی جانب سے چھّروں اور آنسو گیس کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آئے تھے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً ایک ہفتے سے جاری سکیورٹی لاک ڈاؤن میں اتوار کو عیدالاضحیٰ سے ایک دن قبل کچھ دیر کے لیے نرمی کی گئی تاہم جلد ہی سرینگر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی 'ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں اور کرفیو کا بہانہ نہ کریں کیوں کہ کرفیو نافذ نہیں ہے۔'

سنیچر کو حکومت نے عید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکیورٹی میں نرمی کی جائے گی۔ اتوار کی صبح کئی علاقوں میں نرمی کی بھی گئی جس کے بعد بعض سڑکوں پر ٹریفک جام بھی دیکھا گیا اور لوگ زیادہ تر روزمرہ کی اشیائے ضروریات کی خریداری کرتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

سرینگر میں حالات میں نرمی کی گئی تو لوگ خریداری کرتے نظر آئے

،تصویر کا ذریعہTAUSEEF MUSTAFA

،تصویر کا کیپشنسرینگر میں حالات میں نرمی کی گئی تو لوگ خریداری کرتے نظر آئے

ایسا لگ رہا تھا کہ عید کی وجہ سے حالات میں نرمی کے نتیجے میں شہریوں کی نقل و حرکت جاری رہے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور اتوار کو 12 بجے کے قریب پھر سے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا گیا۔

جو تھوڑی بہت نرمی کی گئی تھی اسے ختم کر دیا گیا لیکن مواصلات کا نظام بند ہونے کی وجہ سے معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا کہیں کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا خدشات کے پیش نظر نرمی ختم کر دی گئی ہے۔ لیکن حکومت کا اصرار یہی ہے کہ حالات قابو میں اور پرامن ہیں۔

،ویڈیو کیپشنعیدالاضحی کی تیاریوں کو بھی متاثر کیا ہے

کیا عید کی نماز کی اجازت دی جائے گی؟

سرینگر میں تو تاریخی طور پر تو جامع مسجد میں عید کا اجتماع ہوتا ہے اگر وہاں نہیں تو عید گاہ میں ہوتا ہے جبکہ مختلف ضلعوں کے بڑے میدانوں میں عید کی نماز ہوتی ہے۔

سرکاری طور پر ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا لیکن بعض اہلکاوں نے بتایا ہے کہ بڑی عید گاہوں میں بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں دی جائے گی اور لوگ گلی محلوں کی مسجدوں میں نماز ادا کر سکیں گے۔

حکام کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ ایسے اجتماعات کے بعد لوگ مظاہروں کے لیے نکلتے ہیں اس لیے سکیورٹی اہلکاوں کی بھاری نفری تعینات رہے گی۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

سیاسی رہنما ہوٹل میں قید

ایک مقامی ہوٹل جہاں کبھی انٹرنیشنل کانفرنسز منعقد ہوتی تھیں اسے سب جیل قرار دے دیا گیا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں سیاسی رہنماؤں کو نظربند کیا گیا ہے۔

ان رہنماؤں میں علیحدگی پسند اور ہند نواز رہنما دونوں شامل ہیں اور فی الحال عید سے پہلے یا عید کے موقع پر ان کی رہائی کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

وہاں ہماری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو گذشرہ چار دنوں سے وہاں قید اپنے ایک ایسے رشتے دار سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں جو گذشتہ حکومتوں میں وزیر رہ چکے ہیں۔

’میں گذشتہ چار دنوں سے آ رہا ہوں لیکن ملنے نہیں دیا جا رہا۔ ڈی سی سے بھی لکھوا کر لایا ہوں لیکن ملنے نہیں دے رہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے رشتے دار وزیر رہ چکے ہیں اور انڈیا کے حامی تھے اس لیے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا ہوگا۔

لوگوں کے خدشات

لوگوں کے خدشات دن بہ دن بڑھ رہے ہیں کیوں کہ معلومات تک رسائی نہیں ہے اور ہر قسم کی کمیونیکیشن بدستور بلاک ہے جس وجہ سے لوگوں کو اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

ایک مقامی ہسپتال میں ایک شخص سے بات ہوئی جس کے ہاں چند روز قبل بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے لیکن وہ یہ خبر اپنے گھر والوں کو نہیں دے سکا ہے۔

سرینگر

،تصویر کا ذریعہTAUSEEF MUSTAFA

،تصویر کا کیپشنسرینگر میں حالات میں نرمی کی گئی تو لوگ ضروری اشیا کی خریداری کرتے نظر آئے

ایسی مثالیں بھی ہیں کہ جن کے والدین حج کے لیے گئے ہیں وہ صرف ان سے بات کرنے کے لیے فلایٹ لے کر دلی جاتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں۔

'ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی'

جموں کشمیر کی پولیس نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ حالات قابو میں ہیں اور ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی۔ حکومت اور پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ سات دنوں میں کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔

تاہم صورہ کے ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے نوجوان آئے ہیں جن کے ’جسم پر چھرے لگے تھے‘ اور ایسی مثالیں بھی بیان کی ہیں جن میں لوگوں کو ’بازو یا ٹانگ پر گولیاں لگی ہوئی‘ تھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ چھوٹے موٹے واقعات ہو رہے ہیں اور قانون کے تحت پولیس اپنے پروٹوکول کے مطابق ایکشن لے رہی ہے لیکن اس بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ رہی ہیں۔

بی بی سی کے عامر پیرزادہ نے سنیچر کو جب خود صورہ جا کر ان زخمیوں کی خبر کی تصدیق کے لیے زخمیوں سے ملنے کی کوشش کی تو ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

ایک راستے پر مظاہرین نے یہ کہہ کر روک دیا کہ انھیں میڈیا پر غصہ ہے کیوں کہ وہ ایسے دکھا رہا ہے جیسے کشمیر میں امن ہے جبکہ دوسرے راستے پر سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے آگے جانے نہیں دیا۔

حکومت کہتی ہے کہ سب قابو میں ہے۔ بڑے پیمانے پر تو حالات قابو میں ہیں اور جس طرح کی مزاحمت کا اندیشہ تھا کہ پوری وادی سے لوگ نکلیں گے ایسا نہیں ہوا کیوں کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے ایک ہفتہ پہلے سے ہی بڑے پیمانے پر فوج کو تعینات کر دیا گیا تھا۔