کیا ہم صحراؤں کو سرسبز بنا سکتے ہیں؟

Aerial view of a circular green agricultural field bordering desert sand, with a long pipeline extending from a small white structure onto the green area.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جب ہم کسی صحرا کے بارے میں سوچتے ہیں تو گوبی یا صحارا کے وسیع و عریض میدان ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔

حقیقت میں صحرا بہت متنوع ہوتے ہیں، جہاں نباتات، حیوانات اور انسانی زندگی کی مختلف سطحیں پائی جاتی ہیں۔

مصر کا دارالحکومت قاہرہ دنیا کا سب سے بڑا صحرائی شہر ہے، جہاں دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد لوگ آباد ہیں۔

عمومی طور پر صحرا کا ماحول انتہائی خشک ہوتا ہے اور صحرا میں پانی کی محدود مقدار زیادہ تر جانداروں کے لیے نشوونما پانے کو انتہائی مشکل بنا دیتی ہے۔

تاہم صحرا پھیل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال تقریباً 10 لاکھ مربع کلومیٹر زرخیز زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے۔

زمین پر زرخیزی میں کمی واقع ہو رہی ہے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ غیر متوقع طریقوں سے پانی پیدا کیا جائے اور صحراؤں کو ایسی جگہ بنایا جائے جہاں پودے پھل پھول سکیں؟

موسم میں تبدیلی

Rows of reflective solar panels stretch across a desert landscape, installed between rolling sand dunes under a hazy sky.

،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images

،تصویر کا کیپشناگر صحارا کے 20 فیصد حصے کو گہرے رنگ کے سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز سے ڈھانپ دیا جائے تو بارش کی مقدار ممکنہ طور پر دوگنی ہو سکتی ہے

چین کی بیجنگ یونیورسٹی میں جغرافیائی علوم کے پروفیسر یان لی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ڈیزرٹیفیکیشن یعنی کسی زمین کا صحرا میں بدل جانا اُس عمل کو کہتے ہیں جب کوئی قدرتی یعنی گھاس والی زمین یا جھاڑیوں والی جگہ آہستہ آہستہ خشک تر ہوتی جاتی ہے اور آخرکار صحرا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔‘

1970 کی دہائی میں سائنسدان جول چارنی نے یہ دریافت کیا کہ انسانی سرگرمیاں اس عمل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں یعنی انسان ایک سرسبز زمین کو صحرا میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے پروگرام ’کراؤڈ سائنس‘ کو لی بتاتے ہیں کہ ’جب مویشی حد سے زیادہ ہوتے ہیں تو وہ ساری گھاس چر لیتے ہیں، یوں زمین پر سے سبزہ ختم ہو جاتا ہے اور یہ صحرا میں بدل جاتی ہے۔‘

ایسا ہونے سے زمین کی سطح بدل جاتی ہے جسے ’البیڈو‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ ننگی ریت زیادہ روشن اور بہت چمکدار ہوتی ہے اور سورج کی روشنی کا بڑا حصہ واپس منعکس کر دیتی ہے۔

جب زمین حرارت کو جذب کرنے کے بجائے واپس منعکس کرتی ہے تو اس کے اوپر کی ہوا زیادہ گرم نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ کم نمی بخارات بن کر اوپر جاتی ہے اور کم بادل بنتے ہیں، یوں علاقہ مزید خشک ہو جاتا ہے اور وجہ بارش کا نہ ہونا ہوتا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لی نے سوچا کہ اگر اس کا الٹ کیا جائے تو کیا ہو گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ہم زمین کی سطح بدل دیں تو کیا بارش ہو گی اور کیا اس میں اضافہ ہو گا؟‘

ان کے مطابق سولر پینل اس کا ایک بہترین طریقہ ہیں۔ یہ گہرے رنگ کے ہوتے ہیں اور گہری رنگت والی سطحیں حرارت جذب کرتی ہیں جس سے ہوا گرم ہوتی ہے، نمی ہوا میں شامل ہوتی ہے اور بادل بنتے ہیں جو پھر بارش کے برسنے کا باعث بنتے ہیں۔

ان کی ٹیم نے ایک ماڈل بنایا جس میں یہ دیکھا گیا کہ اگر صحارا کے 20 فیصد حصے کو گہرے رنگ کے سولر پینلز سے ڈھانپ دیا جائے تو کیا ہو گا۔

انھوں نے اس میں ونڈ ٹربائنز بھی شامل کیں۔ لی اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ ’اگر ہمارے پاس ونڈ ٹربائنز ہوں تو زمین کی سطح کھردری ہو جاتی ہے۔ زیادہ رگڑ کی وجہ سے مزید توانائی ہوا میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ ہلچل موسم میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے اور پھر بادل بننے میں مدد دیتی ہے۔

ان کے ماڈل کے مطابق پورے صحرائے صحارا میں اوسط بارش دگنی ہو سکتی ہے۔

لیکن فی الحال یہ صرف ایک اندازہ ہے اور اس کے لیے بہت بڑی مقدار میں سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز درکار ہوں گی، جو تقریباً 20 لاکھ مربع کلومیٹر علاقے پر پھیلی ہوں گی۔ یہ تقریباً میکسیکو یا انڈونیشیا کے سائز کے برابر ہے۔

لی یہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ طریقہ صرف ان جگہوں کے لیے کارآمد ہو سکتا ہے جو سمندر کے قریب ہوں جیسے صحارا جہاں سے نمی والی ہوا اندر کی طرف آ سکتی ہے۔‘

دیگر کئی صحرا جیسے گوبی یا مشرقِ وسطیٰ کے صحرا سمندر سے بہت دور ہونے کی وجہ سے اس طریقے کے لیے مناسب نہیں ہیں۔

بادلوں پر قابو پانا

Perched on a mountaintop are two large pieces of canvas held vertically upright by wooden poles with troughs underneath; a man stands with his back to the camera nearby. 

،تصویر کا ذریعہMARTIN BERNETTI/AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنچلی کے ایٹاکاما صحرا میں دھند سے پانی حاصل کرنے کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔

چلی کا صحرائے ’اٹاکاما‘ جسے دنیا کی خشک ترین جگہ کہا جاتا ہے وہاں ایک ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی مدد سے ہوا سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔

ورجینیا کارٹر جو ایک جغرافیہ دان اور چلی کی یونیورسیداد میئر میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں فوگ یعنی دھند سے پانی جمع کرنے والے طریقوں میں مہارت رکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فوگ ہارویسٹنگ‘ تقریباً 50 سال پہلے چلی میں شروع ہوئی تھی۔ اس کا مقصد صحرا میں بادلوں سے پانی حاصل کرنا ہے۔‘

دھند سے پانی حاصل کرنا حیرت انگیز طور پر آسان ہے۔ ایک جالی کو ستونوں کے درمیان لٹکا دیا جاتا ہے اور جب نمی سے بھری دھند اس باریک جالی سے گزرتی ہے تو جالی پر پانی کے قطرے بن کر جمع ہو جاتے ہیں۔ پھر اس پانی کو پائپوں کے ذریعے ٹینکوں میں جمع کر لیا جاتا ہے۔

کارٹر کے مطابق چلی کے انتہائی شمالی حصے میں اوسطاً فی مربع میٹر روزانہ دو لیٹر پانی حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ کچھ جگہوں پر یہ مقدار سات لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

تو کیا مستقبل میں فوگ ہارویسٹنگ صحرا کو سرسبز بنانے میں مددگار ہو سکتی ہے؟

کارٹر کہتی ہیں کہ ’ایسا ممکن ہے۔ ان کی ٹیم اس وقت صحرائے اٹاکاما میں ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس میں فوگ یعنی دھند سے حاصل کردہ پانی کو ہائیڈروپونکس کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یعنی مٹی کے بجائے غذائی محلول والے پانی میں پودے اگانا۔‘

لیکن اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ اس طریقے سے حاصل ہونے والا پانی دیگر طریقوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور اس کے لیے ایسی جگہ ضروری ہے جہاں دھند ہو جو عموماً ساحل کے قریب ہوتی ہے۔

سمندری پانی کو میٹھے پانی میں بدلنا

Rows of parallel green pipes extend from a raised metal platform down to the paved ground below; the sea is seen close behind.

،تصویر کا ذریعہClea Rekhou/The Washington Post via Getty Images

،تصویر کا کیپشن150 سے زیادہ ممالک پانی کی فراہمی کے لیے ڈی سیلینیشن استعمال کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے، کیا سمندر سے براہِ راست پانی لینا مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟

اگرچہ سمندری پانی کو میٹھا بنانے یعنی ’ڈی سیلینیشن‘ کی ٹیکنالوجی بہت طاقتور ہے لیکن آج کل اس عمل کے لیے توانائی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اکثر اس کے لیے فوسل فیولز پر انحصار کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ڈربی کے پروفیسر کرسٹوفر سانسم چھوٹے ڈی سیلینیشن یونٹس تیار کر رہے ہیں جو سورج کی توانائی پر کام کرتے ہیں۔

اس طریقے میں آئینوں کے ذریعے سورج کی روشنی کو پائپوں پر مرکوز کیا جاتا ہے جس سے پانی ابلتا ہے اور اس سے نمک الگ ہو جاتا ہے۔

لیکن انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور صحرا کو سرسبز بنانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو بہت بڑے پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہوگی۔

اور چاہے یہ عمل کسی بھی طریقے سے کیا جائے اس میں بہت زیادہ مقدار میں نمک باقی بچ جاتا ہے جو ان پلانٹس کے اردگرد کے ماحول کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے؟

A man wearing a headscarf rides a donkey along a narrow stone pathway carved into a rocky canyon, with steep sandstone walls on both sides.

،تصویر کا ذریعہSTR/NurPhoto via Getty Images

،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں لاکھوں لوگ صحراؤں میں آباد ہیں۔

نظریاتی طور پر ہم سمندر کے کھارے پانی کو میٹھے پانی میں بدل کر بادلوں سے پانی حاصل کر کے یا حتیٰ کہ صحرا کے موسم کو بدل کر صحرا کو سرسبز بنا سکتے ہیں۔

لیکن صحرا خود کوئی بری چیز نہیں ہیں۔ لی کہتے ہیں کہ ’صحرا زمین پر قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ اگر صحرا اپنی حالت میں قائم ہوں تو یہ بالکل ٹھیک ہیں اور ہم انھیں جیسے ہیں ویسے ہی رہنے دے سکتے ہیں۔‘

یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی نباتاتی سائنسدان زنیا گونزالیز کیرانزا کہتی ہیں کہ ’صحرا کو سرسبز بنانے یا وہاں پانی پہنچانے کی کوشش کے بجائے ہمیں وہاں موجود زندگی کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’صحرا کو سر سبز بنانے کی کوشش طویل مدت میں ماحول اور وہاں رہنے والے لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘

وہ وضاحت کرتی ہیں اور کہتی ہے کہ ’پودے لگا کر شاید ہم کچھ عرصے کے لیے اچھی فصلیں حاصل کر لیں لیکن اس کے لیے بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب ان فصلوں کے لیے حد سے زیادہ پانی استعمال کیا جاتا ہے تو صحرا کے آس پاس رہنے والی آبادیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔‘

آخر میں اُن کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ سب سے بہتر کام یہ ہے کہ ہم صحرا کو اچھی طرح سمجھیں، اس کے ماحول اور یہاں پائی جانے والی تمام چیزوں کا احترام کریں اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرنے کی کوشش کریں۔‘