ایران نے پکڑے جانے والے برطانوی پرچم بردار ٹینکر کے عملے کی تصاویر جاری کر دی ہیں

ایرانی افسر سٹینا اِمپیرو کے عملے سے بات کرتے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO / FARS NEWS / ABED GHASEMI

،تصویر کا کیپشنسٹینا اِمپیرو کے 23 ارکان پر مشتمل عملے سے ایرانی افسر گفتگو کرتے ہوئے

ایران کے سرکاری میڈیا نے اس برطانوی پرچم بردار ٹینکر کے عملے کی تصاویر شائع کی ہیں جسے خلیج فارس سے قبضے میں لیا گیا تھا۔

ویڈیو فوٹیج اور ایک تصویر میں جہاز کے باورچیوں کو کھانا تیار کرتے اور ایک ایرانی افسر کو سٹینا اِمپیرو کے عملے کو بریفنگ دیتے دکھایا گیا ہے۔

برطانیہ میں سکیورٹی کی اعلیٰ سطحی ایمرجنسی کمیٹی کوبرا کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے جہاز پر قبضے کو ناقابلِ قبول اور کشیدگی میں انتہائی اضافہ کرنے والا فعل قرار دیا تھا۔

توقع ہے کہ برطانوی وزیرخارجہ جلد ہی ارکانِ پارلیمان کے سامنے آئندہ کا لائحہ عمل بیان کریں گے۔

اطلاعات ہیں کہ بعض وزراء ایرانی اثاثے منجمد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

سٹینا اِمپیرو کا عملہ

،تصویر کا ذریعہIrib

،تصویر کا کیپشنبرطانوی پرچم بردار جہاز سٹینا اِمپیرو کا عملہ انڈیا، روسی، لیٹویا اور فلپائن کے شہریوں پر مشتمل ہے۔
ٹینکر سٹینا اِمپیرو کا عملہ

،تصویر کا ذریعہIrib

،تصویر کا کیپشنٹینکر کو ایران نے جمعہ کے روز قبضے میں لے لیا تھا۔

فارس اور اِیرِب نیوز ایجنسیوں کی جاری کردہ تصاویر میں عملے کے 23 ارکان میں سے چند نظر آ رہے ہیں۔ عملہ، انڈیا، روس، لیٹویا اور فلپائن کے شہریوں پر مشتمل ہے۔

ایک موقع پر ایک ایرانی افسر انھیں کیمرے کی طرف نہ دیکھنے کی ہدایت دے رہا ہے۔

اس سے قبل برطانوی حکومت نے ایران سے جمعہ کو پکڑے جانے والے ٹینکر کو فوری طور پر چھوڑنے کا مطالبہ دہرایا تھا۔

وزیراعظم ٹریسا مے نے کوبرا اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں سکیورٹی اور ممکنہ ردعمل پر غور کیا گیا۔

پاسداران انقلاب کے ارکان سٹینا اِمپیرو پر

،تصویر کا ذریعہFars News Agency/REUTERS

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیر خزانہ فلِپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ ٹینکر پر قبضے کو نظرانداز نہیں کر سکتا
ٹینکر سٹینا اِمپیرو کا عملہ

،تصویر کا ذریعہIrib

،تصویر کا کیپشنایرانی پریس کے مطابق عملے کو پوچھ گچھ کے لیے جہاز سے اتار کر لے جایا گیا تھا