کابل: مبینہ دھاندلی کی تحقیقات نہ ہونے پر خواتین اُمیدواروں نے ہونٹ سی لیے

افغانستان
،تصویر کا کیپشنکابل میں صدارتی محل کے سامنے گزشتہ سال کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی خاتون امیدواروں نے منگل کے روز احتجاجاً اپنے ہونٹ سی لیے۔
    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں صدارتی محل کے سامنے گزشتہ سال کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی خاتون امیدواروں نے منگل کے روز احتجاجاً اپنے ہونٹ سی لیے۔

ملک کے مختلف صوبوں سے آئی ہوئی یہ خواتین اُمیدوار پچھلے سال اکتوبر میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ناکام ہوئی تھیں۔

ننگرھار سے افغان ولسی جرگہ یا ایوانِ زیریں کے لیے اُمیدوار ڈیوہ نیازی نے منگل کو اپنی پانچ ساتھیوں سمیت اپنے ہونٹ سی لیے۔ بی بی سی سے بات کرتے وہ کہتی ہیں کہ یہ اُن کی بے بسی اور مظلومیت کی آخری حد ہے کیوں کہ حکومت ’گونگی اور بہری’ ہے۔

واضح رہے کہ ان خواتین کا احتجاج گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے۔

ان کا الزام ہے کہ گزشتہ سال کے افغان پارلیمانی انتخابات میں اُن کے ساتھ دھاندلی ہوئی اور اُن کی جگہ وہ لوگ پارلیمان میں گئے جنھوں نے رشوت اور دباؤ کے ذریعے انتخابات کے نتائج بدلے۔

افغانستان
،تصویر کا کیپشنڈیوہ نیازی کے مطابق اُن کا احتجاج مطالبات کے حل اور مرتے دم تک جاری رہے گا۔

’ہم افغان خواتین تین ماہ سے یہاں احتجاجاً بیٹھے ہیں، لیکن صدر کے پاس تین منٹ کا وقت بھی نہیں ہے کہ وہ ہمارے مطالبات کے حل کے لیے ہمیں سنیں۔’

ڈیوہ نیازی کے مطابق اُن کا احتجاج مطالبات کے حل اور مرتے دم تک جاری رہے گا۔

اس احتجاج میں شریک نجیبہ فیض ہلمندی نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کی صبح اُن کی درخواست پر ایک خاتون ڈاکٹر نے اُن کے ساتھیوں کے ہونٹ سی دیے۔

’ہم نے ایک قریبی لیڈی ڈاکٹر کو بلایا اور ان سے درخواست کی تو اُنھوں نے کل صبح ہمارے ساتھیوں کے ہونٹ سی دیے۔’

نجیبہ کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ اس احتجاج میں شریک دیگر خواتین بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ’ہم میں سے پانچ نے ہونٹ سی لیے ہیں جبکہ نو بھوک ہڑتال پر ہیں۔’

افغانستان
،تصویر کا کیپشناحتجاج کرنے والی خواتین نے عید کے دن کفن پوش احتجاج بھی کیا، لیکن ان کے مطابق اُن کی بات کسی نے نہیں سنی۔

اپنے ہونٹ سینے والی امیدواروں میں ننگرھار سے تعلق رکھنے والی ڈیوہ نیازی کے علاوہ قندھار سے تعلق رکھنے والی آرزو صافی، پکتیکا سے ہیلہ مجتبی، ہلمند سے ہادیہ حمیدی اور نسیمہ نیازی شامل ہیں۔

نجیبہ کے مطابق اُن کا مطالبہ ہے کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے افغان حکومت خصوصی کمیٹی بنائے۔

اس احتجاج میں شریک ڈاکٹر زاہدہ فیضان نے بتایا کہ اُن کا احتجاج پچھلے تین ماہ سے جاری ہے لیکن سنوائی نہ ہونے پر کل اُن کی پانچ ساتھیوں نے احتجاج کے طور پر اپنے ہونٹ سی لیے ہیں۔

’ہمیں یہاں خیمے لگائے ہوئے تقریبآ تین مہینے ہوگئے ہیں۔ ہم نے پہلے بھوک ہڑتال کی تھی لیکن پھر افغان صدر کے مشیر حمداللہ محب ہمارے پاس آئے اور ہم سے وعدہ کیا کہ ہم آپ کے مطالبات مانتے ہیں، آپ بھوک ہڑتال ختم کرلیں۔ لیکن 25 دن گزرنے کے باوجود بھی اُنھوں نے ہمارے ساتھ کیا گیا وعدہ نہیں نبھایا، تو ہم نے واپس بھوک ہڑتال شروع کر دی۔’

افغانستان
،تصویر کا کیپشنان امیدواروں کے مطابق یہ اُن کی بے بسی اور مظلومیت کی آخری حد ہے کیوں کہ حکومت ’گونگی اور بہری’ ہے۔

احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ پچھلے تین ماہ میں اُنھوں نے احتجاج کے کئی طریقے اپنائے اور عید کے دن کفن پوش احتجاج بھی کیا، لیکن اُن کی بات کسی نے نہیں سنی۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن اور افغان حکام ان خواتین اُمیدواروں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انتخابات شفاف تھے اور احتجاج کرنے والی اُمیدوار اپنے اپنے حلقوں میں ہار چکی ہیں۔