انڈیا کی جنوبی ریاست تیلنگانا میں خاتون افسر پر لاٹھیوں سے حملے کے الزام میں 16 افراد گرفتار

،تصویر کا ذریعہBBC TELUGU
انڈیا کی جنوبی ریاست تیلنگانا میں خاتون فارسٹ افسر کو ہجوم کی جانب سے لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس واقعے کے وقت مقامی پولیس افسران بھی وہاں موجود تھے۔
اس ہجوم کی سربراہی علاقے کی برسراقتدار پارٹی کے ایک رہنما کر رہے تھے۔ وہ علاقے میں شجرکاری مہم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی اور پارٹی کے صدر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
فارسٹ افسر کو شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فارسٹ افسر کو ہجوم کی جانب سے بانس کے ڈنڈوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ وہ اس دوران ٹریکٹر پر کھڑی ہو کر عوام کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان پر بار بار ڈنڈوں کے وار کیے جاتے رہے پھر مقامی پولیس نے ہجوم کو منتشر کیا۔
یہ ویڈیو پورے انڈیا میں وائرل ہو گئی اور پورے ملک میں اس کی مذمت کی گئی۔
اس کے ردعمل میں تیلنگانا راشتڑا سمیتی پارٹی کے سینئر رہنما کلواکنتلہ تراکا راما راؤ نے ٹوئٹر پر اس کی مذمت کی۔
اس ہجوم کی سربراہی اس پارٹی کے مقامی رہنما کے بھائی کونیرو کرشنا راؤ کر رہے تھے۔ پارٹی نے تصدیق کی ہے کہ انھیں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
اپنے دفاع میں راما راؤ نے کہا ہے کہ ’فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کسانوں کی فصلیں تباہ کر رہے تھے اور ہم انھیں انصاف دینے کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہKTRTRS
انھوں نے الزام لگایا کہ ’محکمہ جنگلات قبائلی کسانوں کی زمین پر زبردستی قابض ہو رہے ہیں اور انھیں ڈرا دھمکا رہے ہیں اور یہ واقعہ حادثاتی طور پر ہوا۔‘
بی بی سی تیلوگو کے مطابق ان دو پولیس افسران کو جو واقعے کے وقت وہاں موجود تھے اور فارسٹ افسر کو تحفظ دینے میں ناکام رہے، نوکری سے معطل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ کاگازناگر نامی گاؤں میں پیش آیا۔ یہاں ریاست کے محکمہ جنگلات کو شجر کاری مہم کا اختیار دیا گیا تھا جو کلشوارم نامی پراجیکٹ کا حصہ ہے۔ یہ ایک بڑی مہم ہے جس کا افتتاح گذشتہ ہفتے ہی ہوا تھا۔
ریاست میں اپوزیشن جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگرس نے اس وقعے کی سختی سے مذمت کی ہے۔










