انڈین سپریم کورٹ کے گائے کے نام پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات پر لوگ مطمئن

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
انڈین سپریم کورٹ نے انڈیا کی تمام ریاستوں کے سبھی ضلعوں میں گائے کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات کا سدِ باب کے لیے ایک سینیئر پولیس اہلکار کو نوڈل افسر کے طور پر تعینات کیے جانے کا حکم دیا ہے۔
ایک پیٹیشن کی سماعت کے دوران جسٹس امتاو رائے اور اے ایم کھانولکر نے کہا کہ یہ نوڈل افسر اس بات پر نظر رکھے گا کہ گئو رکشکوں گائے کے تحفظ کے نام پر قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور ان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زیادہ تر لوگوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وشال پردھان نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے اور اس پر در عمل ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ گائے کے تحفظ کے نام پر ملک کی شاہراہوں پر پہرا دینے والوں کو قابو میں کرنے کے لیے ریاستی حکومتوں نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں، اس کی معلومات عدالت کو دیں۔
اکبر علی خان نے کہا کہ فیصلہ بالکل صحیح ہے لیکن فیصلہ آنے میں دیر ہوئی ہے۔ حالانکہ بہت سے افراد نے گائے کے قتل کو روکنے پر زور دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
راہل سین نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کو گائے کی غیر قانونی درآمد کرنے والوں پر بھی لگام کسنی چاہیے۔ وہیں سیف لکھتے ہیں کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔
ابھیشیک رانا نے بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کو گائے کے قتل پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔








