افغانستان: خود کش حملوں کو حرام قرار دینے والے علما کےقتل پر تشویش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے حالیہ دنوں میں افغانستان میں علما کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سوموار کے روز ایک بس کو جس میں وزارت مذہبی امور کے اہلکار سوار تھے نشانہ بنایاگیا ۔
اس سے ایک روز قبل ایک مذہبی رہنماء مولوی صابر کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
جمعہ کے روز کابل میں ممتاز مذہبی سکالر مولوی سمیع اللہ ریحان اس وقت ہلاک ہو جائے جب نماز جمعہ کے وقت مسجد میں خود کش حملہ ہوا۔
حملے میں مولوی سمیع اللہ ریحان سمیت دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ سولہ افراد زخمی ہوئے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
مولوی ریحان کو حکومت کا حامی تصور کیا جاتا تھا اور وہ خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے تھے۔
کسی شدت پسند گروہ نے مولوی ریحان پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ حکومتی اہلکاروں نے طالبان کو ممتاز مذہبی رہنما کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا لیکن طالبان کے ترجمان نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے صدر اشرف غنی کی جانب سے دو نئے وزارء کی کابینہ میں شمولیت پر افسوس کا اظہار کیا ۔
چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ نے سوموار کے روز کونسل آف منسٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے وزرا کی تعیناتی کےبارے میں بے خبر تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تعیناتیاں سیاسی ہیں۔
افغانستان میں صدراتی انتخابات اکتوبر کے اوائل میں ہونا طے ہیں۔ صدارتی انتخابات پہلے جون میں ہونا تھے لیکن انھیں کچھ ماہ کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔










