دلی کے ہوٹل میں آتشزدگی سے ہلاکتیں

ہوٹل میں لگنے والی آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں منگل کی صبح ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں جو کہ عمارت سے گر کر ہلاک ہوئے۔

اس حادثے کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ہوٹل کی چوتھی منزل سے کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر جان بچانے کے لیے چھلانگیں لگا رہے ہیں۔

ہوٹل میں لگنے والی آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آتشزدگی کا نشانہ بننے والا ہوٹل ارپت پیلس سیاحت کے لیے مشہور علاقے قرول باغ میں واقع ہے اور آگ نے اس کی بالائی منزل کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔

حکام کے مطابق 35 افراد کو متاثرہ ہوٹل سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے جبکہ زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہوٹل میں لگنے والی آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آگ بجھانے والے عملے کے رکن ویپن کینٹا نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا '(ہوٹل) کی راہدایوں کی آرائش لکڑیوں سے کی گئی تھی اور اس وجہ سے وہاں آگ پھیلی اور لوگ ان راستوں کو باہر نکلنے کے لیے استعمال نہ کر سکے۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ کم از کم دو افراد نے عمارت سے باہر چھلانگیں لگائیں۔

ہوٹل میں لگنے والی آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تفشیش جاری ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ذیادہ اموات دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئیں۔

انڈیا کے شہروں میں جہاں عمارتوں کے حفاظتی ضابطوں کی پابندی نہیں کی جاتی آگ لگنے کی واقعات کوئی غیر معمولی نہیں ہیں۔

ہوٹل میں لگنے والی آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بہت سی پرانی اور نئی عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کے باقاعدہ ہنگامی راستے نہیں ہیں۔

اس ہی وجہ سے گذشتہ مہینوں کے دوران دہلی کے مہنگے علاقوں میں کئی دکانیں اور ریستوران بند کیے گئے ہیں۔

تجارتی مقاصد کے لیے بنائی گئی عمارتوں کے مالکان اجازت لیے بغیر اضافی منزلیں تعمیر کر لیتے لیں۔

ہوٹل میں لگنے والی آگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دلی کے وزیر ستیندرا جین نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ارپت پیلس ہوٹل کی عمارت میں بھی مالک نے خلاف ضابطہ پانچویں منزل تعمیر کر لی تھی جبکہ انھیں صرف چار منزلیں بنانے کی اجازت تھی۔

۔