انڈیا:مودی کی پارٹی پر سیاسی رہنما کے قتل کا الزام

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
اتوار کے روز انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے قصبے میں ہزاروں سیاسی کارکنوں نے ایک سیاستدان کی میت اٹھا کر مارچ کیا ہے جن کی ہلاکت سے انڈیا میں ہونے والے عام انتخابات میں پر تشدد واقعات کا آغاز ہو گیا ہے۔
مشرقی ریاست کی حکمران جماعت آل انڈیا تری نامول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قانون ساز رہنما ستیجیت بسواس کو ہفتے کے روز نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ہندو دیوی کی عبادت کی تقریب میں شریک تھے۔
ان کی جماعت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) پر ستیجیت بسواس کے قتل کاالزام لگایا ہے تاہم بی جے پی رہنماوں کی جانب سے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
مغربی بنگال پولیس کے نائب سربراہ انوج شرما کا کہنا ہے کہ ہمیں شبہ ہے کہ اس قتل کے تانے بانے سیاسی قتل و غارت سے ملتے ہیں تاہم دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے۔
ٹی ایم سی کارکنوں نے 38 سالہ ستیجیت بسواس کی میت کو کولکتہ سے 120 کلومیٹر دور ضلع نادیہ کے ایک ہسپتال سے اٹھا کر ان کے آبائی علاقے تک مارچ کیا ۔
یہ بھی پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
ضلع نادیہ جس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے، گزشتہ سال ریاستی انتخابات کے دوران بھی ٹی ایم سی اور بی جے پی کے لیے میدان جنگ بنا رہا تھا جس میں الیکشن مہم کے دوران تقریباً درجنوں ہلاکتیں ہوئیں تھیں۔
بی جے پی پر بسواس کے قتل کا الزام لگانے والے ٹی ایم سی کے جنرل سیکرٹری پرتھا چترجی کے مطابق ستیجیت بسواس کمیونٹی میں بی جے پی کے حملوں سے بچنے کی فعال کوشیش کر رہے تھے۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کے سربراہ دلیپ گھوش نے بسواس کے قتل کا الزام ٹی ایم سی کی اندرونی تقسیم پر لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی قتل ہوتا ہے تو اس کا الزام میری جماعت پر لگا دیا جاتا ہے اس معاملے میں تحقیقات ہونے دیں، پر چیز واضح ہو جائے گی۔
ماضی میں ہونے والے انتخابات میں بھی مغربی بنگال میں لرزہ خیز قسم کی سیاسی قتل و غارت ہوتی رہی ہے جس میں کئی کارکنوں کے ٹکڑے کیے گئے جبکہ بعض کو زندہ جلا دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مغربی بنگال کی رابندرا بھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سیباچی باسو رائے چودھری کے مطابق جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور سیاسی گروہوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے جس کی وجہ سے مسئلہ بڑھ رہا ہے۔
انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق 2013 میں کمیونسٹ پارٹی نے ٹی ایم سی پر انتخابات سے قبل 142 سیاسی مخالفین کے قتل کا الزام لگایا تھا۔
سیاسی قتل وغارت انڈیا بھر میں عام ہے، نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں تقریباً 100 سے زائد سیاسی قتل ہوئے تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کیرالہ، اتر پردیش اور بہار سیاسی تشدد اور قتل و غارت گری کے لیے بد نام ترین ریاستیں ہیں۔










