مودی کا انڈیا کی سیاست میں کم ہوتا اثر، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے ریاستی الیکشن میں بی جے پی کو دھچکا

،ویڈیو کیپشنحکمران جماعت بی جے پی کو پانچ ریاستوں میں شکست

انڈیا کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں جہاں تین شمالی ریاستوں میں بی جے پی کو کانگریس کے مقابلے پر شکست کا سامنا ہے وہیں دو ریاستوں میں مقامی جماعتوں نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق چھتیس گڑھ میں کانگریس نے واضح برتری حاصل کر لی ہے جب کہ راجستھان میں بھی بی جے پی کانگریس سے پیچھے ہے۔ مدھیہ پردیش میں دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ چل رہا ہے اور فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آخر میں کس کو فتح نصیب ہو گی۔

وزیراعظم مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت تھی اور اب تینوں میں کانگریس آگے ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چھتیس گڑھ میں کانگریس 59 نشستوں پر آگے ہے جبکہ بے جی پی کے امیدوار 23 نشستوں پر سبقت لیے ہوئے ہیں۔

راجستھان میں کانگریس کے امیدوار 96 نشستیں جیت رہے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار 75 حلقوں میں ہی بازی مارتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم یہاں واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدوار حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تلنگانا راشٹرا سامتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد میں تلنگانا راشٹرا سامتی (آر ٹی ایس) کے کارکن اپنی فتح کا جشن مناتے ہوئے

مدھیہ پردیش میں صورتحال تیزی سے بدلی ہے۔ ابتدا میں یہاں کانگریس آگے تھی، پھر بی جے پی نے سبقت لی اور اب پھر کانگریس آگے نکل گئی ہے۔ اس وقت کانگریس یہاں 113 نشستیں جیت رہی ہے جبکہ بی جے پی 106 نشستوں پر آگے ہے۔ بہوجن سماج پارٹی چار نشستوں پر آگے ہے اور اس نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس ریاستی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 115 نشستیں درکار ہیں۔

تیلنگانہ میں ٹی آر ایس 87 نشستوں پر آگے ہے جو دو تہائی کی برتری سے بھی زیادہ ہے۔ 40 نشستوں والی ریاست میزورم میں ایم این ایف جیت کی طرف بڑھ رہی ہے اور وہ 16 نشستیں جیت چکی ہے اور سات پر آگے ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق کانگریس کے بارے میں پہلے سے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ ریاست راجستھان میں جیت جائے گی جبکہ ریاست مدھیہ پردیش میں بھی توقع تھی کہ یہاں کانٹے کا مقابلہ ہو گا لیکن ریاست چھتیس گڑھ کے انتخابات کے ابتدائی نتائج میں کانگریس کو حاصل ہونے والی واضح برتری نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی 15 برس سے اقتدار میں تھی جبکہ راجستھان میں وہ پانچ برس قبل اقتدار میں آئی تھی۔ ان ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔

بے جے پی کے اقتدار والی دو ریاستوں میں کانگریس کی ممکنہ جیت کو ملک کی قومی سیاست میں اس کی موثر واپسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ آئندہ چند ماہ میں انڈیا میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور شمالی ریاستوں میں بی جے پی کی ممکنہ شکست پارٹی کے لیے بہت بڑا انتخابی دھچکا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو بیشتر نشستیں شمالی ریاستوں سے ہی ملی تھیں جبکہ کانگریس کا شمالی ریاستوں سے مکمل طو پر خاتمہ ہو گیا تھا۔

ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اس کی واپسی سے پارٹی کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔

مکمل نتائج آنے میں میں ابھی کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں لیکن جے پور، رائے پور اور دلی میں کانگریس کے دفاتر کے باہر پارٹی کے حامی جمع ہونے لگے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے راجستھان میں نامہ نگار نتن سری واستو کی تصاویر میں کانگریس اور بی جی پی کے پارٹی دفاتر میں بالکل مختلف ماحول دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے دہلی میں نامہ نگار سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ کانگریس نے نمایاں طور پر تین اہم ریاستوں میں اپنی کاکردگی کو بہتر بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں اس رائے کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی کہ وزیراعظم مودی کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

ان کے مطابق ان نتائج سے جماعت کے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہو گا اور کانگریس جماعت آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات میں اس وقت کشمکش کا شکار علاقائی اتحادیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو جائے گی۔