گاندھی کے قتل کی ڈرامائی عکاسی کرنے پر ہندو مہا سبھا کی رہنما گرفتار

،تصویر کا ذریعہScreengrab
انڈیا میں مہاتما گاندھی کے قتل کی ڈرامائی عکاسی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دائیں بازو کی جماعت ہندو مہاسبھا کی ایک رہنما کو مہاتما گرفتار کر لیا گیا۔
ہندو مہا سبھا نے مہاتما گاندھی کے قتل کی سترہویں 'سالگرہ' منانے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا۔
ویڈیو میں گروپ کی رہنما پوجا پانڈے ایک پستول سے مہاتما گاندھی کے مجسمے کو گولی ماری اور انہیں قتل کرنے والے شخص ناتھو رام گوڈسے کے مجسمے کو ہار پہنائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس معاملے میں مزید بارہ لوگوں کےخلاف مقدمے درج کیا گیا ہے۔
دائیں بازوں کے کچھ ہندو مہاتما گاندھی کو زیادہ اعتدال پسند سمجھتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس تیس جنوری کی بنائی جانے والی اس ویڈیو کے جاری ہونے کے بعد سے ہی پوجا پانڈے کی تلاش میں تھی۔ تیس جنوری 1948 کو نتھو رام گوڈسے نے دلی کے برلاہاؤس میں مہاتما گاندھی کے سینے میں تین گولیاں داغ کر انہیں ہلاک کر دیا تھا۔ نتھو رام قوم پرست دائیں بازو ہندو تنظیم سے وابستہ تھا۔
انڈیا کے سخت گیر ہندوؤں کا خیال ہے کہ گاندھی جی نے مسلمانوں کی حمایت کر کے ہندوؤں کے ساتھ دھوکہ کیا تھا۔
ان سخت گیر تنظیموں نے پہلے بھی گاندھی جی کی برسی کے موقع پر نتھو رام گوڈسے کو عظیم انسان بتانے کی کوشش کی ہے۔








