عمران خان افغان عوام کی آزمائش کے خاتمے کے لیے دعاگو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ابوظہبی میں افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی مذاکرات کو ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور وہ افغان عوام کی آزمائش کے ختم ہونے کے لیے دعاگو ہیں۔
منگل کے روز ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے ابوظبہی میں طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے اہتمام میں معاونت کی۔ آئیے دستِ دعا بلند کریں کہ امن لوٹ آئے اور جری افغان عوام پر تقریباً تین دہائیوں سے پڑنے والی آزمائش تمام ہو۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں ’ قیامِ امن کے لیے پاکستان سے جو بھی بن پڑے گا وہ کریں گے۔‘
یاد رہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے سلسلے میں افغان طالبان کے نمائندوں نے پیر کو متحدہ عرب امارات میں امریکی نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ اس ملاقات میں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تاہم پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام اس بات چیت میں شامل ہوئے۔
افغانستان نے اس ملاقات کو پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کے سلسلے میں پہلا عملی قدم قرار دیا ہے۔
یہ زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان کم از کم تیسری ملاقات ہے۔ اس سے قبل یہ قطر میں کم از کم دو مرتبہ مل چکے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں تصدیق کی تھی کہ قطر میں افغان طالبان کے نمائندے اس بات چیت میں شریک ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغان طالبان کا موقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پر غیرملکی افواج کی موجودگی ملک میں امن کے قیام کی راہ میں مرکزی رکاوٹ ہے تاہم وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ کابل حکومت کو تسلیم کرنے، آئین میں تبدیلیوں اور خواتین کے حقوق جیسے معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔
امریکہ نے ستمبر میں زلمے خلیل زاد کو افغانستان میں قیامِ امن کے لیے نمائندۂ خصوصی مقرر کیا تھا اور اس نے طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت پر رضامند کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
افغانستان کی پیس ہائی کونسل کے ترجمان احسن طاہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کا ایجنڈا یہ طے کرنا ہے کہ ’امن عمل کا آغاز کیسے ہو اور اس سلسلے میں کیسے آگے بڑھا جائے۔‘
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’عالمی برادری اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ہمراہ پاکستان بھی افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے پرعزم ہے۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بات چیت سے ’افغانستان میں خونریزی کا خاتمہ ہو گا اور خطے میں امن آئے گا۔‘
اتوار کی شب افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بات چیت پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل کے سلسلے میں لیا جانے والا پہلا عملی قدم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزارتِ خارجہ کے ترجمان صبغت احمدی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'امریکہ نے بھی اپنا دباؤ بڑھایا ہے جس سے کچھ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ یہ نتائج وسیع پیمانے پر حاصل کیے جا سکیں گے۔'
اس سے قبل سنیچر کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے طالبان سے ہتھیار پھینک کر مذاکرات کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب پاکستان ان مذاکرات میں مدد کر رہا ہے تو افغان حکومت، طالبان اور دیگر گروہوں کو مفاہمت اور مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔
زلمے خلیل زاد نے اس ملاقات سے پہلے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید سے بھی ملاقات کی ہے۔
یہ بطور نمائندۂ خصوصی تقرری کے بعد ان کا خطے کے تیسرا دورہ ہے جس میں انھوں نے افغان طالبان کے نمائندوں کے علاوہ افغانستان، روس، پاکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان کے حکام سے بھی ملاقات کی اور افغانستان میں قیامِ امن کے بارے میں بات کی ہے۔











