’اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع کا فائدہ اٹھائیں‘

شاہ محمود قریشی، مائیک پومپیو

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشندونوں رہنماؤں نے پہلی بار ستمبر کے اوائل میں بھی ملاقات کی تھی جب امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

منگل کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو باہمی مفادات کے حوالے سے وسیع البنیاد سطح پر بات چیت کرنی چاہیے اور اس ضمن میں منظم فریم ورک کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے وہاں طاقت کا استعمال بے نتیجہ ثابت ہوا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بیان کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جنوبی ایشیا میں مکمل امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر بھی بات کی۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے اس کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع کا فائدہ اٹھائیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات ہمیشہ باہمی فائدے اور جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی حکومت افغان طالبان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے جس سے افغان طالبان کا پاکستانی سرحد پر اثر و رسوخ ختم ہو۔

اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی کی سلامتی امور کے مشیر جان بولٹن سے بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن سے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی زیر قیادت افغانیوں کے درمیان مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن کو خطے میں بڑھی ہوئی انڈین جارجیت سے متعلق آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی امن کی دعوت کا مثبت جواب دے کر انڈیا قیادت داخلی سیاست کا شکار ہو گئی۔

واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں نے پہلی بار ستمبر کے اوائل میں بھی ملاقات کی تھی جب امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔