’جسم فروشی کی مکمل آزادی نہیں دی جا سکتی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بي بي سي ہندی
شمالی انڈیا کےشہر الہ آباد میں یکم مئی سنہ 1958 کو ایک نوجوان خاتون کمرۂ عدالت میں کھڑی تھیں اور عدالت میں حاضر تمام افراد کی نظریں ان پر گڑی ہوئی تھیں۔
چوبیس برس کی حسنا بائی نے جج جگدیش شاہی کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ جسم فروشی کے پیشے سے منسلک ہیں۔
یہ بھی پڑھیے‘
حسنا بائی نے عدالت میں ایک آئینی درخواست دائر کی تھی جس میں جسم فروشی کے بارے میں ایک نئے قانون کو آئین سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا تھا کہ ان کے ذریعۂ معاش پر پابندی لگا کر اس نئے قانون نے آئین کے اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کی ہے جس کا مقصد فلاحی ریاست قائم کرنا ہے۔
ایک غریب مسلمان خاتون کی طرف سے عدالت کے سامنے یہ بیان ایک انتہائی غیر معمولی اقدام تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک ایسے دور میں جب جسم فروشی پر مجبور غریب بے سہارا خواتین کی طرف سے ہندوستانی معاشرے نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں انھوں نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالیہ کی توجہ اس طرف مبذول کروائی۔
سنہ 1951 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سرکار کی طرف سے امداد کی وجہ سے ایسی خواتین کی تعداد 54 ہزار سے کم ہو کر 28 پر آ گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہندوستان کی طوائفوں نے جب کانگریس کو چندہ دینے کی پیش کش کی تو اسے مہاتما گاندھی نے رد کر دیا اور چرخا اٹھانے کی نصیحت کی۔ ان خواتین کے ساتھ یہ رویہ اس امر کے باوجود روا رکھا جاتا تھا کہ وہ معاشرے کے ان طبقات میں شامل تھیں جنھیں ووٹ دینے، ٹیکس ادا کرنے اور جائیداد خریدنے کا حق حاصل تھا۔
حسنا کی ذاتی زندگی کے بارے اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں کہ وہ اپنے رشتے کی ایک بہن اور دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھیں جن کی وہ واحد کفیل تھیں۔ ان کے بارے میں کی جانے والی تحقیقات میں ان کی کوئی تصویر بھی نہیں مل سکی۔
حقِ معاش کے لیے ان کی جدوجہد کی یہ کہانی جو لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو چکی تھی لیکن یئل یونیورسٹی کے تاریخ دان روہت دہ نے اپنی نئی کتاب میں اس کہانی کو موضوع بنایا ہے۔
اس کتاب کا عنوان ہے ’جمہوری آئین، انڈین رپبلک میں قانون اور روزمرہ زندگی' اور اس کتاب میں اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ انڈیا کا آئین جس کی تخلیق میں اعلی ترین ذہن شامل تھے انڈیا کے نوآبادیاتی ریاست سے ایک عوامی جمہوریہ میں تبدیلی کے وقت نافذ العمل ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حسنا کے بارے میں معلومات کی عدم دستیابی کی بنا پر اس کتاب کے منصف روہت دہ کو انڈیا میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی تصویر کشی کرنے کے لیے صرف عدالتی ریکارڈ پر ہی انحصار کرنا پڑا ہو گا۔
حسنا کی آئینی درخواست نے لوگوں میں زبردست دلچپسی اور اضطراب پیدا کیا تھا۔
اعلیٰ سرکاری اہلکاروں اور سیاست دانوں میں اس پر زبردست بحث چلی تھی جو دستاویزی شکل میں بھی موجود ہے۔ حسنا کی درخواست کی حمایت میں الہ آباد کی جسم فروش خواتین کا ایک گروپ اور رقاصاؤں کی ایک تنظیم سامنے آئی تھی۔
اس کے بعد دہلی، پنجاب اور ممبئی میں جسم فروش خواتین نے اسی قسم کی آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔
بیگم کلاوت نامی ایک جسم فروش خاتون نے ممبئی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ان کی گھر سے بے دخلی کے حکومتی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ بیگم کلاوت کو گھر سے اس لیے بے دخل کر دیا گیا تھا کہ وہ ایک سکول کے قریب واقع تھا اور انھوں نے اپنی بے دخلی کو آئین میں دیے گئے مساوی شہری حقوق، معاش اور نقل و حرکت کی آزادی کے منافی قرار دیا تھا۔
جسم فروشی کے بارے میں اس نئے قانون نے اس پیشے سے وابستہ بہت سی خواتین میں ان کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔
انھوں نے اپنے گاہکوں اور بڑے بڑے تاجروں سے اس آئینی اور قانونی جنگ لڑنے کےلیے پیسہ اکھٹا کرنا شروع کر دیا۔
دارالحکومت نئی دہلی میں پچھہتر پیشہ وار گانے والیوں اور رقاصاؤں نے پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا۔ انھوں نے ارکان پارلیمان سے کہا کہ ان پر پابندی لگائے جانے سے یہ مسئلہ شہر بھر میں پھیل جائے گا اور معززین کی آبادیاں بھی اس سے نہیں بچ سکیں گی۔
ساڑھے چار سو کے قریب پیشہ ور رقاصاؤں نے ایک تنظیم بنا لی تاکہ اس قانون کے خلاف ایک متحدہ جدوجہد کی جا سکے۔
الہ آباد ہی میں رقاصاؤں کے ایک گروپ نے اعلان کیا کہ وہ اس قانون کے خلاف مہم چلائیں گی کیونکہ یہ نیا قانون آئین میں دی گئی روزگار کی آزادی سے واضح طور پر متصادم ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کولکتہ کے با رونق بازار حسن میں رہنے والی جسم فروش خواتین نے بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تیرہ ہزار پیشہ ور خواتین کو روز گار کے متبادل مواقعے فراہم کرے۔
پولیس اور حکومت نے حسنا بائی کی درخواست پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ خواتین ارکان پارلیمان اور خواتین سماجی کارکنوں کی طرف سے جو جسم فروشی کے خلاف اس قانون کے حق میں مہم چلا رہی تھیں شدید رد عمل سامنے آیا۔
جسم فروشی کے مخالفین نے حسنا کی درخواست کے بارے میں کہا کہ پیشہ وار خواتین کی طرف سے آئینی شقوں کا سہارا لیے جانے پر وہ حیران ہیں۔
حسنا بائی اور دیگر خواتین کی طرف سے دائر کی گئی آئینی درخواستوں کو ایک نئی ریاست کے لبرل ایجنڈے کے منافی قرار دیا گیا۔
انڈیا کی پارلیمان جس میں بہت سی تجربہ کار خواتین موجود تھیں ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی عورت اپنی مرضی سے جسم فروشی نہیں کرتی بلکہ حالات اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ جسم فروش خواتین اپنے دفاع میں آئین کا سہارا لیں گی اور تذلیل کی زندگی گزارنے پر مصر ہیں۔
روہت دہ کا کہنا ہے کہ غور سے جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی انفرادی جرات اور بہادری کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مشترکہ جدوجہد کا حصہ ہے جو ایک غیر منظم یا جزوی طور پر منظم جسم فروشی کا پیشہ کرنے والی خواتین نے روز گار کمانے کے اپنے حق کے دفاع میں چلائی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ نئے قانون کی وجہ سے جسم فروشی کرنے والی خواتین پر معاشرتی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
حسنا بائی کی درخواست کو دو ہفتوں میں تکنکی بنیادوں پر خارج کر دیا گیا اور عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نہ تو انھیں اس نئے قانون سے کسی قسم کی زک پہنچی ہے اور نہ ہی انھیں اپنے روز گار سے روکا گیا ہے۔
انڈیا کی سب سے بڑی عدالت نے آخر کار اس قانون کو آئین کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ جسم فروشی کی مکمل آزادی نہیں دی جا سکتی۔









