کیرالہ سیلاب: کوبرا سانپوں کی موجودگی سے مشکلات میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں گزشتہ صدی کے بدترین سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں جن مسائل کا سامنا ہے ان میں ایک بڑا مسئلہ کنگ کوبرا سانپوں کی موجودگی کا بھی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار سلمان روی نے کیرالہ سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پانی میں گھرے بہت سے گھروں میں کنگ کوبرا سانپوں نے ڈیرے جما لیے ہیں۔
اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں انھوں نے بتایا کہ سیلاب کے دوران کسی گھر سے دس کوبرا ملے ہیں تو کہیں پندرہ کوبرا بیٹھے ہیں اور ان علاقوں میں اب تک سانپوں سے ڈسے جانے کے50 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
کیرالہ کے سیلاب کے بارے میں مزید پڑھیے
کنگ کوبرا سانپوں کی ایک نایاب نسل ہے جو انڈیا کے اسی علاقے میں پائی جاتی ہے اور بہت زہریلی تصور کی جاتی ہے۔
یہ کوبرا سانپ کافی لمبے ہوتے ہیں اور ان سانپوں کی لمبائی دس سے بارہ فیٹ تک ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار کے مطابق اس علاقے کے لوگ روایتی طور پر سانپوں کو ہلاک کرنے پر یقین نہیں رکھتے اور ان سانپوں کو پکڑ کر کسی بیابان میں چھوڑ دیتے ہیں۔
سب سے پرانی مسجد
کہا جاتا ہے کہ کیرالہ میں انڈیا کی سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی تھی اور وہاں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔
سیلاب کی وجہ سے اس برس یہاں کے مقامی مسلمانوں کو عید الاضحیٰ پر نماز عید اور قربانی کا فریضہ انجام دینے میں بھی بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بتایا گیا کہ اس برس مساجد اور عید گاہوں میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قربانی ادا کرنے کے بجائے یہ رقوم سیلاب کے لیے کیے جانے والے امدادی کاموں میں عطیہ کریں۔
اس علاقے کے لوگ کی بڑی تعداد میں مشرق وسطی اور خیلجی ریاستوں میں روزگار کرتے ہیں اور بڑی عید کے موقعے پر چھٹیاں لے کر اپنے گھروں کو آتے ہیں۔
عام طور پر عید کا تہوار بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ عید بڑی سادگی سے منائی گی اور ایسا محسوس ہی نہیں ہو رہا کہ عید منائی جا رہی ہے۔
کیرالہ میں انہی دنوں میں ایک اور تہوار منایا جاتا ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہوتے ہیں جسے مقامی زبان میں اونم کہا جاتا ہے۔
اس کا مطلب پھولوں کا تہوار ہے اور تمام لوگ اپنے گھروں کے سامنے پھولوں سجاتے ہیں اور اس سجاوٹ پر انھیں انعام بھی دیے جاتے ہیں۔








