انڈیا میں ٹوئٹر پر نقصان پہنچانے کا کھلا چیلنج

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں ٹیلی کام کی ضابطہ کار اتھارٹی (ٹرائی) کے چیئرمین نے جب سے اپنا منفرد آدھار نمبر ٹویٹ کیا ہے اس وقت سے ٹوئٹر پر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایک کھلی جنگ شروع ہو گئی ہے۔
دراصل ٹرائی کے چیئرمین آر ایس شرما نے گذشتہ روز ٹوئٹر پر اپنا 12 اعداد پر مبنی آدھار نمبر پوسٹ کرتے ہوئے چیلنج کیا کہ صرف اتنی معلومات سے کوئی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔
انڈیا میں حکومت ہند نے ہر شہری کو ان کی بائیومیٹرکس اور خطے کے تحت جب سے 12 اعداد پر مبنی ایک منفرد نمبر دینے کا کام شروع کیا ہے اس وقت سے ہی یہ تنازع کا باعث رہا ہے۔
حالیہ عرصے میں اسے ہر چیز سے جوڑنے پر زور دیا جا رہا ہے یعنی اپنے فون نمبر سے، بینک اکاؤنٹ سے جس کی بعض سطحوں پر مخالفت ہو رہی ہے اور اسے فرد کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کہا جا رہا ہے۔
آر ایس شرما کی جانب سے ٹویٹ کا آنا تھا کہ ٹوئٹر پر موجود بہت سے لوگ سرگرم ہو گئے اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ان کے آدھار نمبر کی بنیاد پر ان کا موبائل نمبر پتہ چلا لیا ہے، سوشل میڈیا سے ان کی تصاویر حاصل کر لی ہیں، ان کے گھر کا پتہ، ان کا پین کارڈ نمبر، ان کا یوم پیدائش یہاں تک ان کے چیٹ کا سرا بھی حاصل کر لیا ہے۔
جبکہ بعض دوسرے لوگوں نے انھیں اس قسم کے چیلنج کے لیے متنبہ کیا ہے۔
احمد آباد کے ایک ایتھیکل ہیکر کنشک سجنا نے بی بی سی کے نمائندے دیپل کمار شاہ کو بتایا کہ ’کرن سینی نام کے ٹوئٹر صارف نے سب سے پہلے اس آدھار نمبر کی بنیاد پر ان کا فون نمبر ٹویٹ کیا جس کی مدد سے ہم نے شرما جی کا دوسرا موبائل نمبر اور ان کی یوم پیدائش اور ان کے گھر کا پتہ چلا لیا۔ اس کے بعد ان کا ووٹر آئی ڈی نکال لیا۔ اور ان کی بنیاد پر انکم ٹیکس کی سائٹ پر جا کر ان کا پین کارڈ حاصل کر لیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ ’آدھار کے ساتھ بینک اکاؤنٹ لنک نہ ہونے کے باوجود کسی نے ان کا پنجاب نیشنل بینک اکاؤنٹ نمبر بھی لیک کر دیا ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایئر انڈیا سے ان کے سفر کی تفصیل بھی حاصل کر لی ہیں۔
ہندوستانی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دو دن قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے کہا کہ ’مرکزی حکومت آدھار کو ہر چیز کے لیے لازمی قرار دے رہی ہے لیکن کیا اس فیصلے سے مرکز دہشت گردوں کے ملک میں داخلے میں کمی لا سکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جبکہ دو ہی دن قبل ایک سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے بچوں، بوڑھوں اور ذہنی طور پر معذور لاپتہ افراد کے آدھار کے بائیومیٹرکس کے استعمال پر رہنمائی طلب کی ہے۔
مسٹر شرما نے ایک شخص کے جواب میں ٹویٹ کیا: ’میرا آدھار نمبر 7621 7768 2740 ہے۔ میں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ مجھے ایک بھی ٹھوس مثال دیں کہ آپ مجھے کسی طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس کے جواب میں ایک ٹوئٹر ہینڈل Error_PLretry@ نے لکھا کہ ’ایک پریس کانفرنس کرکے اس بات کی قانونی یقین دہانی کرائیں کہ اگر آپ کے دیے گئے آدھار نمبر کے ساتھ کوئی غلط چیز ہوتی ہے تو آپ اس پر کوئی ایکشن نہیں لیں گے۔ جھوٹ آپ لوگوں کی عادت ہے۔ اس لیے آپ کے ٹویٹ پر بھروسہ کرنا بے کار ہے۔‘
اس کے جواب میں آر ایس شرما نے لکھا: ’دکھائیں میرے دوست، میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
پھر کیا تھا ٹویٹ کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا۔ ان کی ٹویٹ کو تقریباً تین ہزار بار ری ٹویٹ اور اس سے کہیں زیادہ بار لائک کیا گیا۔
جوں جوں ان کے بارے میں ہیکرز معلومات فراہم کرنے لگے ٹوئٹر پر سرگرمی زیادہ ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ایک کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’یہ معلومات کوئی ملکی راز نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
جب خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے مسٹر شرما سے اس بابت پوچھا کہ جو تفصیل ان کے بارے میں ٹوئٹر پر مسلسل آ رہی ان میں کوئی صداقت ہے تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’ابھی چیلنج کو چلتے رہنے دو۔‘
خود کو فرانسیسی سکیورٹی ریسرچر کہنے والے ایلیٹ آلڈرسن نے ٹوئٹر ہینڈل fs0c131y@ لکھا: ’لوگوں نے آپ کی ذاتی معلومات اڑا لیں، آپ کا دوسرا فون نمبر نکال لیا، یوم پیدائش نکال لیا، میں یہیں رک جاتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آدھار نمبر کو عام کرنا اچھا خیال نہیں تھا۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جو آدھار نمبر دیا گيا ہے اس سے کوئی بینک اکاؤنٹ منسلک نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے مزاحیہ انداز میں دیگر تفاصیل کا ذکر کیا۔ جبکہ بعض لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل ہیکرز نے اس کی بنیاد پر کتنی معلومات حاصل کر لی ہوگی اور انھوں نے اسے نہ ظاہر کرنا مناسب سمجھا ہوگا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کانگریس پارٹی کی ایک ترجمان پرینکا چترویدی نے سارے مباحثے کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’مودی حکومت کہتی کہ آپ کے آدھار میں دی گئی آپ کی تفصیلات محفوظ ہیں۔ یہاں ان کی پوری طرح پول کھول دی گئی ہے۔‘
واضح رہے کہ مسٹر شرما نے یہ چیلنج سری کرشنا کمیٹی کی دیٹا کے تحفظ پر رپورٹ پیش کرنے کے ایک دن بعد دیا ہے۔ اس رپورٹ میں آدھار قانون میں ترمیم اور آدھار نمبر رکھنے والوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔









