انڈیا میں ’اجتماعی خود کشی‘: کیا منصوبہ بندی پانچ سال پہلے کی گئی تھی

دلی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپولیس کی تحقیقات ابھی جاری ہے

روزنامہ نو بھارت ٹائمز کے مطابق دلی میں مبینہ اجتماعی خود کشی کیس میں کرائم برانچ کو جو رجسٹر اور ڈائریاں ملی ہیں وہ اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ 'اجتماعی نجات کا سکرین پلے پانچ سال پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے ان ڈائریوں اور رجسٹر میں روحانی احساسات اور روح سے تعلق کی باتیں لکھی تھیں۔ ان میں اکیس اکتوبر 2013 کی تاریخ والے صفحے پر اگلے پانچ سال کے لیے اجتماعی مناجات کا ذکر ہے۔

مزید پڑھیئے

،ویڈیو کیپشندہلی میں 11 پھانسیاں: قتل یا پھر کسی روحانی عمل کا نتیجہ؟

اسی دوران اس واقعے کی ایک سی سی ٹی وی فٹیج بھی سامنے آئی ہے۔ جس میں بھاٹیہ خاندان کی دو عورتیں لکڑی کے سٹول گھر کے اندر لے جاتی دکھائی دے رہی ہیں۔

مبینہ خود کشیوں میں انھیں سٹولوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فٹیج کے باوجود بھی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی اس کیس میں قتل کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔

دلی
،تصویر کا کیپشنپولیس کو سی سی ٹی وی فٹیج ملی ہے

ہلاک ہونے والے گیارہ افراد کا تعلق بھاٹیہ خاندان سے تھا جو دلی کے ایک متوسط علاقے براری میں تین منزلہ مکان میں رہتا تھا۔

پولیس کو گیارہ ڈائریاں بھی ملی ہیں جو انکے خیال میں للت بھاٹیہ کی ہیں۔ للت نارائن دیوی کے چھوٹے بیٹے تھے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مسٹر بھاٹیہ کو لگتا تھا کہ ان کے والد کی روح نے انھیں اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ نارائن دیوی 2008 میں فوت ہو چکے تھے۔

ایک تحقیقاتی افسر کا کہنا تھا کہ ’ایک ڈائری میں لکھی باتوں سے اس طرح کے اشارے ملتے ہیں کہ انہیں مکمل یقین تھا کہ غیر مرئی طاقت آکر انہیں بچا لے گی تو ہو سکتا ہے کہ انھیں جذبات کے اثر نے پھانسی لگانے کی ترغیب دی ہو۔‘

پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ وہ مالی طور پر آسودہ لوگ تھے۔ کافی مذہبی تھے برادری میں سرگرم رہتے تھے۔

خاندان کی سب سے بڑی پوتی پرینکا بھی مرنے والوں میں شامل ہے جسکی منگنی دو ہفتے پہلے ہی ہوئی تھی اور بھاٹیہ خاندان نے بڑی پارٹی کی تھی جس میں علاقے کے لوگوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔