دلی میں ایک خاندان کی پراسرار موت پر نو سوال
- مصنف, محمد شاہد
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دلی
شمالی دلی میں ایک ہی گھر کے گیارہ افراد کی پر اسرار موت کا معاملہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
پولیس اس معاملے میں خوکشی اور قتل دونوں ہی زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ دلی پولیس کی کرائم برانچ نے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ خود کشی کا معاملہ ہو سکتا ہے لیکن کرائم برانچ کے جوائنٹ پولیس کمشنر آلوک کمار نے واضح کیا کہ ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
پیر کو مولانا آزاد میڈیکل کالج میں ان گیارہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ ان لوگوں نے اپنی آنکھیں عطیہ کر رکھی تھیں لیکن صرف چھ ہی لوگوں کی آنکھیں بطور عطیہ لی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گیارہ افراد کی موت کے دو دن گذرنے کے بعد گیارہ اہم سوال سامنے آئے ہیں۔
پہلا سوال:
بھاٹیہ خاندان میں سب سے بزرگ 77 سال کی نارائن دیوی کی لاش دوسرے کمرے میں فرش پر ملی۔ اس کے علاوہ ان کے بڑے بیٹے بھوبنیش (50)، دوسرے بیٹے للِت (45)، ان دونوں کی بیویاں سویتا (48) اور ٹینا (42)، بھوبنیش کی دو بیٹیاں اور ایک نا بالغ بیٹا، للت کی کا پندرہ سالہ بیٹا، نارائن دیوی کی بیٹی اور نواسی پھانسی پر لٹکے ہوئے ملے۔
اتوار کو پہلے چشم دید گواہ گر چرن سنگھ گھر میں گھسے تو دس لوگ پھندے پر لٹکے پائے گئے اور ان کے مطابق گھر کے دروازے کھلے تھے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر یہ خود کشی ہے تو گھر کے دروازے کھلے کیوں تھے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسرا سوال:
گھر سے ملے رجسٹر میں روحانیت اور نجات سے متعلق باتیں لکھیں تھیں۔ دلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس رجسٹر میں جس طرح ہاتھ منھ اور آنکھوں پر پٹیاں باندھنے کی بات لکھی تھی کچھ لاشوں پر ویسی ہی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔
سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ’کیا یہ خاندان اس رجسٹر کے حساب سے ہی اجتماعی خود کشی کر رہا تھا؟‘

تیسرا سوال:
سب سے بزرگ خاتون نارائن دیوی دوسرے کمرے میں فرش پر تھیں اور لٹکی ہوئی لاشوں میں سے کچھ کے ہاتھ کھلے ہوئے تھے۔ تو سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ’کیا جن لوگوں کے ہاتھ کھلے تھے انھوں نے پہلے واردات کو انجام دیا او پھر خود کشی کی؟‘
چوتھا سوال:
رجسٹر میں ’نجات‘ کے بارے میں باتیں ملنے سے اس بات کی قیاص آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ لوگ جادو ٹونے میں یقین رکھتے تھے۔ لیکن ہمسائیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی کسی جادو ٹونا کرنے والے یا کسی پجاری اور بابا کو ان کے گھر آتے جاتے نہیں دیکھا اور سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ’تو کیا اس کی تحقیقات کو گمراہ کرنے کے لیے ایسی باتیں کی جا رہی ہیں؟‘۔

پانچواں سوال:
اگر پورے گھر نے خود کشی کا فیصلہ کیا تھا تو کسی نے بھی مخالفت کیوں نہیں کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی لاش کے جسم پر ہاتھا پائی یا مزاحمت کے کوئی نشان نہیں ہیں۔
سترہ جون کو نارائن کی 33 سالہ نواسی پرینکا کی منگنی ہوئی تھی اور جلد ہی شادی ہونے والی تھی تو کیا اتنے بڑے موقع پر ایک خاندان اجتماعی خود کشی کر سکتا ہے؟
چھٹا سوال:
اس خاندان کے کسی بھی تانترِک یا پنڈت سے وابستہ ہونے کی بات اب تک سامنے نہیں آئی ہے لیکن پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس گھر کے چھوٹے بیٹے للت کی آواز کسی بیماری کے سبب چلی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے کئی مذہبی رسومات کا سہارا لیا تھا۔
جس کے بعد ان کی آواز واپس آگئی تھی۔ سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ’کیا اس واقعے کے بعد اس خاندان نے کسی سے متاثر ہو کر یا کسی کے کہنے پر اجتماعی خوش کشی کی ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ساتواں سوال:
رجسٹر کی لکھائی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ چھوٹے بیٹے للت بھاٹیہ کی ہے تو کیا صرف وہی جادو ٹونا میں یقین رکھتے تھے۔ اس خاندان کے مکان کی دیوار میں سے گیارہ پائپ باہر نکلے ہوئے ہیں جن کا کوئی استعمال نہیں ہے۔
اس گھر کو بنانے والے ایک ٹھیکیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ للت بھاٹیہ کے کہنے پر انہوں نے یہ پائپ دیوار کے باہر نکالے تھے۔ للت نے ٹھکیدار سے کہا تھا کہ ’اس سے باہر کی ہوا اندر آئے گی‘۔ یہ گیارہ پائپ کس لیے لگائے گئے تھے ان میں سے سات پائپ مڑے ہوئے اور چار سیدھے تھے اور سبھی ایک خالی پلاٹ کی طرف نکلے ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آٹھواں سوال:
بھاٹیہ خاندان کے رشتہ داروں کا خیال ہے کہ وہ ایک بھرا پورا خاندان تھا۔ وہیں پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کی دکان سے سامان لینے والے کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو وہ بعد میں دینے کے لیے کہہ دیتے تھے۔
رشتے دار دعوے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ خود کشی نہیں کر سکتے۔ تو کیا رشتے داروں کے حساب سے اسے قتل سمجھ کر تحقیقات کی جائے؟
نوواں سوال:
یہ خاندان گذشتہ بیس سال سے اس علاقے میں رہ رہا تھا۔ نارائن دیوی کی ایک بیٹی سجاتا پانی پت میں رہتی ہیں جبکہ ایک بیٹا راجستھان میں رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کسی بڑی جائیداد کا بھی پتہ نہیں چلا ہے لیکن پھر بھی اگر یہ قتل ہے تو اس کی کیا وجہ ہے یہ جواب پولیس کو تلاش کرنا ہوگا۔










