کابل: دو دھماکوں میں صحافیوں سمیت 25 افراد ہلاک

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندوسرا حملہ ان لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جو پہلے دھماکے کے بعد وہاں اکٹھے ہوئے تھے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کئی صحافیوں سمیت کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی چیف فوٹو گرافر شاہ مری بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح کابل کے علاقے شش درک میں ایک موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے پہلا بم دھماکہ کیا۔

اس کے 15 منٹ بعد دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب جائے حادثہ پر کئی افراد اور صحافی جمع تھے۔

یہ بھی پڑھیے

خبررساں ادارے اے ایف پی نے نے کہا کہ دوسرا دھماکہ صحافیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانےکے لیے کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چھ صحافی اور چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ اب تک 45 زخمی ہیں۔

ششدرک ضلعے میں افغانستان کی وزارت دفاع، انٹیلی جنس سروس اور نیٹو کا احاطہ بھی تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس دھماکے میں درجنوں دوسرے افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اس سے قبل اپریل کے اوائل میں ایک خودکش بمبار نے ووٹر ریجسٹریشن مرکز پر دھماکہ کیا تھا جس میں تقریبا 60 افراد ہلاک جبکہ 119 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

رواں سال بی بی سی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں دولت اسلامیہ اور طالبان سرگرم ہیں اور ملک کا صرف 30 فیصد علاقہ ہی پوری طرح سے حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

شاہ مری کی یاد میں

محفوظ زبیدے، بی بی سی نیوز

شاہ مری نے سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے دور میں اے ایف پی کے ڈرائیور کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا۔

دنیا کے امور میں ان کی دلچسپی اور فوٹوگرافی سے محبت کے نتیجے میں انھیں تربیت کے لیے فرانس بھیجا گیا۔

جب وہ تربیت کے بعد واپس آئے تو ان کی حیرت انگيز آنکھوں نے اپنے شہر کابل کے سب سے پرآشوب دور میں انسانیت کے لمحات کو قید کیا۔

شاہ مری کی ایک تصویر

،تصویر کا ذریعہSHAH MARAI/AFP

،تصویر کا کیپشنشاہ مری کی لی ہوئی ایک تصویر جس میں ایک خاتون کو امداد مانگتے دیکھا جا سکتا ہے

ان کی شاہکار تصاویر میں گذشتہ سال شیعہ مسجد پر ہونےوالے حملے کے نتیجے میں صدمے سے بت بن جانے والے ایک بچے کی تصویر ہے جسے پولیس والے مسجد سے نکلنے کے لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ حملہ آور اس وقت تک اندر ہی تھے اور بچہ اپنے والد کی تلاش کر رہا تھا۔

ان تمام باتوں کے درمیان شاہ مری پرسکون اور مسکراتے ہوئے مثبت نظر آئے۔ انھیں خطروں سے کبھی خوف نہیں آیا۔

لیکن انھیں اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب ان کے ساتھی صحافی سردار احمد چند سال قبل کابل کے سرینا ہوٹل پر ہونے والے ایک دوسرے حملے میں مارے گئے۔

شاہ مری کی ایک تصویر

،تصویر کا ذریعہSHAH MARAI / AFP

،تصویر کا کیپشنیہ بھی شاہ مری کی لی ہوئی ایک تصویر ہے جس میں ایک بچی کو کوڑے کے ڈھیر پر دیکھا جا سکتا ہے

شاہ مری کو میں اپنے بچپن سے جانتا ہوں اور ہم دونوں کابل میں میڈیا کے لیے کام کرتے ہوئے ایسے ہی سانحے کے مقامات پر ملتے رہے ہیں۔

وہ صحافی برادری میں بہت سے لوگوں کے دوست تھے اور ہم سب ان کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔