سری لنکا میں مسلمانوں پر حملوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ

،تصویر کا ذریعہReuters
سری لنکا میں کابینہ نے مسلمانوں کے کاروبار اور مساجد پر کئی حملوں کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
سری لنکن شہر کینڈی کے بعض علاقوں میں بودھ مذہب سے تعلق رکھنے والی اکثریتی سنہالا برادری کی جانب سے مسلمانوں کی دکانوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات کے بعد کرفیو نافذ ہے۔
سری لنکن حکام کو خدشہ ہے کہ جلائی گئی ایک عمارت سے ایک نوجوان مسلمان کی لاش برآمد ہونے کے بعد انتقامی حملے ہو سکتے ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
علاقے میں کشیدہ حالات اس وقت پیدا ہوئے جب ایک ہفتہ قبل مبینہ طور پر چند مسلمانوں نے ٹریفک سگنل پر لڑائی کے بعد ایک بودھ نوجوان پر تشدد کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔
گذشتہ ہفتے ملک کے مشرقی شہر امراپرا میں بھی مسلم مخالف پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دو ماہ کے دوران گال میں مسلمانوں کے ملکیتی کاروباروں اور مساجد پر حملوں کے 20 سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں۔
خیال رہے کہ سری لنکا میں کشیدگی سال 2012 سے پائی جاتی ہے جس میں رجعت پسند بدھ مت گروپوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ برس جون میں پولیس نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں ملوث ایک بودھ مذہبی رہنما کو گرفتار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرفتار کیے جانے والے 32 سالہ شخص کا تعلق سخت گیر بودھ تنظیم 'بودو بالا سینا' سے تھا۔
ان پر مسلمانوں کے خلاف حملے اور آتش زنی کرنے جیسے متعدد الزامات ہیں جس سے ملک میں مذہبی منافرت اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
اس وقت پولیس کا کہنا تھا کہ جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے ان کا کولمبو کے مضافات میں ہونے والی آتشزدگی سے براہ راست تعلق ہے۔ گرفتار کیے گئے مذکورہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔
ماضی میں سری لنکا میں مسلم اقلیتوں کو پیٹرول بموں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بدھ مت الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی لوگوں کے مذہب تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم مسلمان اور عیسائی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔







