حجاب کے بارے میں متنازع بیان، افغان صدر اشرف غنی کی معذرت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے حجاب کے بارے میں اپنے ایک متنازع بیان پر خواتین سے معذرت کی ہے۔
سنیچر کو افغان صدر اشرف غنی نے بعض حکومتی اہلکاروں کے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے تعلق کے بارے میں کیے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ لوگ شواہد مہیا کریں یا عورتوں کی طرح حجاب پہن لیں۔
اس پر لوگوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنسی تعصب پر مبنی بیان قرار دیا تھا۔
اس کے بعد افغان صدر کہا ہے کہ وہ ان خواتین سے معذرت کرتے ہیں جنھیں یہ ناگوار لگا اور ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
افغان صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق’ صدر خواتین کے حقوق کے سرکردہ حمایتی ہیں اور جب سے افغانستان کے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے اس وقت سے خواتین کی پوزیشن کو بحال اور مستحکم کرنے کے لیے منفرد اقدامات اٹھائے ہیں۔‘
بیان کے مطابق’ صدر کی جانب سے چادر کے لفظ کے استعمال کو غلط مفہوم میں لیا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی فارسی کے نامہ نگار سہراب سیرت کے مطابق افغان صدر کے روایتی سکارف کے بارے میں بیان کے بعد شرکا کی جانب سے انھیں خوب داد موصول ہوئی تاہم ایک دن کے بعد ہی انھیں خواتین سے معذرت کرنا پڑی۔
بہت ساروں کے خیال میں صدر اپنے ناقدین کو کہنا چاہتے تھے کہ وہ خاتون بن جائیں اور اس طرح کمتری ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
سول سوسائٹی نے سوشل میڈیا پر اس معاملے کو اٹھایا اور صدر سے اپنے بیان پر معافی کا مطالبہ کیا۔
اس کے علاوہ بعض حکومتی اہلکاروں اور خواتین رکن پارلیمان نے بھی غصے کا اظہار کیا۔
اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جہاں زیادہ تر خواتین حجاب پہنتی ہیں۔









