چین کے صدر شی جن پنگ نے سیاسی نائبین کا اعلان کر دیا لیکن جانشین کا نہیں

شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہEPA

چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے سیاسی نائبین کے ناموں کا اعلان کیا ہے جس سے ان کی ملک پر گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

چین نے اپنی نئی سینیئر قیادت کمیٹی کے جن ناموں کا اعلان کیا ہے اس میں صدر شی جن پنگ کے جانشین کا نام شامل نہیں ہے جو کہ روایتی طور پر شامل ہوتا ہے۔

کمیٹی میں شی جن پنگ کے جانشین کو شامل نہ کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اگلے پانچ برس یا ممکنہ طور پر اس سے بھی آگے پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کریں گے۔

چینی صدر کے نئے نابعین کا اعلان چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے منگل کو صدر شی جن پنگ کے نظریات کو آئین کا حصہ بنانے کے حق میں ووٹ دے کر انھیں کمیونسٹ چین کے بانی ماؤزے تنگ کی صف میں شامل کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چینی قیادت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین کے سات رکنی فیصلہ ساز ادارے پولٹ بیوور سٹینڈنگ کمیٹی میں پانچ نئے نام شامل کیے گئے ہیں۔

صدر شی جن پنگ کے جانشین کے نام کی غیر موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا شی جن پنگ کتنا عرصہ حکمرانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

چین کی سینئیر قیادت کمیٹی میں 64 سالہ شی جی پنگ کے علاوہ 62 سالہ وزیر اعظم لی کیچیانگ ہی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں پارٹی کے سابق سیکریٹری اور نائب وزیر اعظم وانگ یانگ کو چین کا ایگزیکٹیو نائب وزیر اعظم تعینات کیا گیا ہے۔

شنگھائی کے پارٹی سیکریٹری 63 سالہ ہان ژینگ کو ترقی دی گئی ہے اور وہ چین کی پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس کی قیادت کریں گے۔

اس کمیٹی میں 60 سالہ ژاؤ لیجی کا نام شامل کیا گیا ہے جو کہ ملک کی اینٹی کرپشن کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔چین کے رہنماؤں نے حالیہ دہائیوں میں اپنی آخری مدت کے آغاز میں سٹینڈنگ کمیٹی کو اپنے ایک یا زیادہ ممکن وارث نامزد کیے ہیں جو ان کی جانشینی کی واضح اشارہ ہے۔

چین

،تصویر کا ذریعہReuters

چین کے نئے مرکزی فوجی کمیشن کا بھی اعلان کیا گیا ہے جس کی قیادت شو چیلیانگ کریں گے اور اس میں صدر شی جی پنگ کے قریبی ساتھی یانگ یوشیا بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سٹینڈنگ کمیٹی، پولٹ بیوو کے 25 ارکان کے ناموں کا اعلان چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو ملک کی اہم ترین سیاسی میٹنگ ہوتی ہے۔اس اجلاس میں 2000 سے زیادہ اراکین نے شرکت اور اس کی بیشتر کارروائی منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔