معروف انڈین روحانی گرو ریپ کے الزام میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین میڈیا کے مطابق ملک کے ایک معروف روحانی گرو کو ایک 21 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فلاحاری مہاراج پر الزام ہے کہ انھوں نے راجھستان کے ایک گاؤں الوار میں واقع اپنے آشرم میں قانون کی ایک طالبہ کا ریپ کیا۔
اگر ان پر یہ جرم ثابت ہو گیا تو انھیں دس سال قید بھگتنا ہو گی۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بھی انڈیا کے متنازع روحانی گرو گرمیت رام رحیم کو دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فلاحاری مہاراج کو سنیچر کو گرفتار کر کے طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
رواں ماہ کی 11 تاریخ کو جے پور میں قانون کی طالبہ نے فلاحاری مہاراج کے خلاف شکایت درج کروائی تھی اور بتایا تھا کہ انھیں سات اگست کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کی درخواست پر آشرم میں خیرات کے لیے پیسے دینے گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین اخبار دِی ہندو کے مطابق متاثرہ ہونے والی طالبہ کا کہنا ہے کہ انھیں رات کو رکنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق فلاحاری مہاراج کی پیروی کرنے والوں کی ملک کے اندر اور باہر بہت بڑی تعداد موجود ہے اور متاثرہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے بھی انھیں حالیہ سالوں میں کئی بار آشرم کے لیے رقوم عطیہ کی ہیں۔
طالبہ کا کہنا ہے کہ فلاحاری مہاراج نے انھیں اس واقعے کی رپورٹ نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ گرمیت رام رحیم کو سزا ملنے کے بعد ان میں ہمت پیدا ہوئی کہ وہ پولیس سے رابطہ کریں۔
ریپ کی سزا معطل
دوسری جانب انڈیا کی ریاست ہریانہ میں ہائی کورٹ نے جنسی تشدد کے ایک کیس میں تین افراد کو سونی پت کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو معطل کر دیا ہے۔
ان تینوں پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی یونیورسٹی کی ساتھی کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور انھیں بلیک میل بھی کیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جسٹس مہیش گرور اور راج شیکھر اتاری نے گذشتہ ہفتے یہ فیصلہ دیا تھا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ 'زیاتی کا شکار ہونے والی لڑکی سے ملنے والے شواہد اس کے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ جنسی تعلقات میں رحجانات اور تجربات کی ایک الگ کہانی دکھا رہے ہیں۔ اس لیے یہ عوامل مجبور کرتے ہیں کہ سزا کی معطلی کی درخواست کو دیکھا جائے۔ خاص طور پر اس وقت جب ملزم خود کم عمر ہیں اور اس کہانی سے لگتا نہیں ہے کہ عموماً اس قسم کے واقعات میں جس طرح کا تشدد ہوتا ہے اس میں بھی ہوا۔‘









