آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ممبئی بم دھماکوں کے مقدمے میں ابو سالم کو عمرقید کی سزا
انڈیا کے صنعتی شہر ممبئی کی انسداد دہشت گردی سے متعلق خصوصی عدالت نے سنہ 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں دو افراد کو موت، دو کو عمر قید اور ایک شخص کو دس برس قید کی سزا سنائی ہے۔
خصوصی عدالت نے مافیہ سرغنہ ابو سالم اور کریم اللہ خان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ طاہر مرچنٹ اور فیروز خان کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
ابو سالم کو ایک طویل انتظار کے بعد پرتگال سے لایا گيا تھا اور چونکہ پہلے سے جاری کیسز کی سماعت اختتام کے قریب تھی اس لیے ان لوگوں پر الگ سے مقدمہ چلا یا گيا۔
یہ سزائیں ان دھماکوں سے متعلق اسی دوسری کڑی کی سماعت کا نتیجہ ہیں جس کے تحت سات افراد پر مقدمہ چلا، مصطفی دوسا نامی ایک شخص کی جیل میں پہلے ہی موت ہوچکی ہے جبکہ ایک اور شخص کو بری کر دیا گيا تھا۔
اس مقدمے کی پہلی کڑی میں عدالت نے 100 سے زیادہ لوگوں کو قصوروار قرار دیا تھا جس میں کئی ایک کو موت اور متعدد کو عمر قید کی سنائی جا چکی ہے۔
ٹاڈا کی عدالت نے گذشتہ جون میں ابو سلیم سمیت چھ ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ابو سالم کو مجرمانہ سازش میں شامل ہونے کا قصوروار پایا تھا اور انھیں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کا بھی قصوروار ٹھہرایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے علاوہ طاہر مرچنٹ، محمد مصطفی دوسا، فیروز عبدالراشد خان اور كريم اللہ کو عدالت نے بم دھماکے کے لیے مجرم قرار دیا تھا۔
سنہ 1993 کےان سلسلہ وار بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ دھماکے ممبئی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں ہلاک ہونے والے مسلمانوں کا انتقام لینے کے لیے کیے گئے تھے۔
ان دھماکوں میں سرکاری ایئر لائنز ایئر انڈیا، ممبئی کے بازارِ حصص اور کئی ہوٹلوں سمیت شہر کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گيا تھا۔