تقسیم کا عجائب گھر: دھندلی پڑتی یادوں کو تازہ رکھنے کی کوشش

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، امرتسر
امرتسر کا خوبصورت ٹاؤن ہال ایک گزرے ہوئے دور کی یاد دلاتا ہے۔ یہ انگریزوں کے زمانے کی عمارت ہے جسے دیکھ کر ذہن میں ایک ایسے ہندوستان کی تصویر ابھرتی ہے جو کبھی غلام تھا۔
جب 70 سال پہلے آخرکار غلامی کی یہ بیڑیاں ٹوٹیں تو ایک نئے ملک کا جنم بھی ہوا اور بے پناہ خونریزی بھی۔
اسی ٹاؤن ہال میں قائم تقسیم کا عجائب گھر ان یادوں کو تازہ رکھنے کی کوشش ہے جو وقت کے ساتھ دھندلی پڑتی جا رہی ہیں لیکن دوسرے عجائب گھروں سے یہ ذرا مختلف ہے۔
یہاں تقسیم کو قریب سے دیکھنے والوں کی یادوں کو انہیں کی آواز میں محفوظ کیا گیا ہے جن میں مشہور شاعر گلزار بھی شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'مجھے یاد ہے کہ جنم اشٹمی کے دن ہم نے ایک اور پنجابی بستی میں جاکر پناہ لی تھی۔۔۔ مدت تک یہ داغ آنکھوں پر جمے رہے۔ انہیں دھونے میں بڑا وقت لگا۔'
گلزار کے مطابق '20، 25 سال تک میں فسادات کے خواب دیکھتا رہا، آنکھ کھل جاتی تھی تو پھر سوتا نہیں تھا، یہ خوف رہتا تھا کہ یہ خواب پھر آجائے گا۔ اس کے بعد جب لکھنا سیکھ لیا تومیں یہ سب اپنے اندر سے باہر نکال سکا، ورنہ نہ جانے اس کا میرے اوپر کیا اثر ہوتا۔'

کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں کا اعلان آزادی کے دو دن بعد 17 اگست کو ہوا تھا، افراتفری کے اس عالم میں لاکھوں بےگھر ہوئے لاکھوں زندگیاں تباہ ہوئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملکہ آہلووالیہ اس عجائب گھر کے بانیوں میں شامل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'یہ ایک ایسا وقت تھا جب ہندو، مسلم اور سکھوں کو بہت کچھ سہنا پڑا۔۔۔ تینوں نے تشدد دیکھا بھی اور شاید خود کیا بھی۔ اپنے عجائب گھر میں ہم یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ظلم تینوں طرف ہوا۔ لیکن ہم یہ بھی دکھانا چاھتے ہیں کہ اس وقت لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد بھی کی، ایسی مثالیں ہمارے عجائب گھر میں موجود ہیں اور بہت ضروری ہے کہ یہ کہانیاں بھی بتائی جائیں۔'
اس عجائب گھر کے ایک بڑے کمرے کے بیچوں بیچ ان عورتوں کی یاد میں ایک کنواں بنایا گیا ہے، جنھوں نے مذہبی جنون کے اس دور میں اپنی عزت بچانے کے لیے کنوؤں میں کود کر جان دے دی تھی۔
ملکہ کہتی ہیں کہ 'ہمارے پاس درد بھری داستانیں تو بہت ہیں لیکن دل کو خوش کرنے والی کہانیاں بھی ہیں، ہمارے پاس پھلکاری کی ایک جیکٹ ہے جس سے محبت کی ایک کہانی جڑی ہوئی ہے۔ دو پیار کرنے والے کیسے بچھڑے اور پھر کیسے ملے۔۔۔ لیکن اس کہانی کو سننے کے لیے آپ کو خود عجائب گھر میں آنا پڑے گا!'

،تصویر کا ذریعہAlamy
اسی ہال کے ایک کونے میں ایک خط رکھا ہے، اپنے بیٹوں کے نام ایک باپ کا خط جس میں لکھا ہے کہ 'حالات اب ایسے ہو گئے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں یہاں سے نکل پاؤں گا یا نہیں اور تمہیں دوبارہ دیکھ پاؤنگا یانہیں۔‘
جس نسل نے تقسیم دیکھی تھی، وہ اب تیزی سے ختم ہو رہی ہے، اور ان کے ساتھ ان کی یادیں بھی، لیکن یہاں آنے والوں میں ایک بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی شامل ہے۔
روشن تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہ عجائب گھر ہمارے لیے ایسے دروازے کھولتا ہے جو اب تک بند پڑے تھے۔۔۔ ہم نےاپنے استادوں اور بزرگوں سے کہانیاں سنی تو تھیں لیکن یہاں آکر آپ باقاعدہ یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ ایسا بھی ہوا ہے۔۔۔ یہاں آکر یہ سبق ملتا ہے کہ حالات کتنی جلدی بے قابو ہو سکتے ہیں۔'
اس عجائب گھر میں تاریخ بھی ہے، سبق بھی، درد بھری داستانیں بھی، اور محبت کے حسین قصے بھی۔ جسے جس کی تلاش ہو۔








