ایرانی صدر حسن روحانی کے بھائی کو حراست میں لے لیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران کی عدلیہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی کے بھائی حسین فریدون کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حسین فریدون غیرمعینہ مالی معاملات کے حوالے سے ضمانت کی شرائط کو پورا نہیں کر سکے اور انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ان کا نام سرکاری انشورنس کمپنی میں مینجیرز کی زیادہ تنخواہوں کے سکینڈل میں ملوث حکام کے ساتھ بھی سامنے آیا تھا۔ وہ کسی قسم کی بدعنوانی کی تردید کرتے ہیں۔
یہ سکینڈل ایک سال سے زائد عرصہ تک صدر حسن روحانی کے لیے دردسر بنا ہوا ہے۔
عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اژہای کا کہنا ہے کہ ’اس شخص (حسین فریدون) کے حوالے سے کئی تحقیقات ہوئیں ہیں، دیگر افراد کے ساتھ بھی تفتیش کی جارہی ہے، جن میں سے کچھ اب جیل میں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کل، ان کی ضمانت جاری کی گئی چونکہ وہ اسے بھرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ حسین فریدون کو ’ضمانتی رقم جمع کروانے کے بعد رہا کیا جاسکتا ہے۔‘
تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حسین فریدون کو کن الزامات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہISNA
گذشتہ سال مئی میں ’پے سلپ سکینڈل‘ سامنے آیا تھا جب اعلیٰ عہدوں پر تعینات افراد کی تنخواہوں کی رسیدیں منظر عام پر آئی تھیں۔ جن میں بھی بعض کی تنخواہیں کم از کم مقررہ تنخواہ سے 50 گنا زیادہ تھیں۔
اس سکینڈل سے صدر حسن روحانی کی حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
صدر روحانی نے مئی میں منعقدہ انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی گئی اور پہلے مرحلے میں انھیں 57 فیصد ووٹ ملے تھے۔
لیکن انتخابی مہم کے دوران ان کی بدعنوانی سے متعلق پالیسیوں پر آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔








