انڈیا: دارجیلنگ میں پرتشدد مظاہرے اور ہڑتال، تصاویر میں

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے شہر دارجیلنگ میں جاری غیر معینہ ہڑتال کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
دارجیلنگ میں ایک مقامی جماعت نیپالی زبان بولنے والی گورکھا کمیونٹی کے لیے الگ ریاست بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ مظاہرے مغربی بنگال کی حکومت کی جانب سے ریاست بھر کے سکولوں بشمول دارجیلنگ میں بنگالی کو لازمی مضمون قرار دیے جانے کے بعد شروع ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
گورکھا جن مکتی مورچہ (گورکھا پیپلز لبریشن فرنٹ) جو ان مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے نے گورکھا لینڈ کے لیے 'آخری حد تک لڑائی' کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یہ جماعت اپنی علیحدہ ریاست کو مغربی بنگال کے شمالی پہاڑی علاقے سے نکالنا چاہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
دارجیلنگ میں یہ ہڑتال گذشتہ ماہ شروع ہوئی تھی تاہم رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کی آسانی کے لیے دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
اس ہڑتال نے دارجیلنگ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے جس سے ہزاروں مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
دارجیلنگ میں جاری ہڑتال نے گرمیوں میں سیاحتی سیزن کو بھی متاثر کیا۔ جون میں شروع ہونے والی اس تشدد کی وجہ سے دسیوں ہزاروں سیاح پہاڑی مقامات پر پھنس گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
اس تحریک کے رہنما بیمال گورنگ ہڑتال شروع کرنے کے اعلان کے بعد سے روپوش ہیں۔ ان کے حامیوں پر پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے کے الزامات کے علاوہ دکانداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے کے لیے دھمکیاں دینا بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
مغربی بنگال کی پولیس نے بیمال گورنگ کے کئی دفاتر میں چھاپے مار کر ان کے حامیوں کو حکومتی دفاتر اور گاڑیاں جلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ بیمال گورنگ کے حامیوں نے ان چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف وزیرِ اعلیٰ ممتا بینر جی کے پتلے نذر آتش کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSaibal DAs
دارجیلنگ میں گذشتہ ماہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کو پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا۔ ان پرتشدد مظاہروں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں 30 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
دارجیلنگ کو علحیدہ ریاست بنانے کے لیے سنہ 1980 کی دہائی میں مظاہرے ہوئے تھے جن میں 1,200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ یہ مظاہرے اس وقت ختم ہوئے جب گورکھا رہنما نے الگ ریاست کے مطالبے کی بجائے خود مختار کونسل پر رضامندی ظاہر کی جس میں علاقے کی خود مختاری کی ضمانت دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSaibal Das
تمام تصاویر بشکریہ سیبل داس۔







