آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: دارجیلنگ میں پرتشدد مظاہرے اور ہڑتال، تصاویر میں
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے شہر دارجیلنگ میں جاری غیر معینہ ہڑتال کی وجہ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
دارجیلنگ میں ایک مقامی جماعت نیپالی زبان بولنے والی گورکھا کمیونٹی کے لیے الگ ریاست بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ مظاہرے مغربی بنگال کی حکومت کی جانب سے ریاست بھر کے سکولوں بشمول دارجیلنگ میں بنگالی کو لازمی مضمون قرار دیے جانے کے بعد شروع ہوئے۔
گورکھا جن مکتی مورچہ (گورکھا پیپلز لبریشن فرنٹ) جو ان مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے نے گورکھا لینڈ کے لیے 'آخری حد تک لڑائی' کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یہ جماعت اپنی علیحدہ ریاست کو مغربی بنگال کے شمالی پہاڑی علاقے سے نکالنا چاہتی ہے۔
دارجیلنگ میں یہ ہڑتال گذشتہ ماہ شروع ہوئی تھی تاہم رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کی آسانی کے لیے دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی۔
اس ہڑتال نے دارجیلنگ میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے جس سے ہزاروں مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔
دارجیلنگ میں جاری ہڑتال نے گرمیوں میں سیاحتی سیزن کو بھی متاثر کیا۔ جون میں شروع ہونے والی اس تشدد کی وجہ سے دسیوں ہزاروں سیاح پہاڑی مقامات پر پھنس گئے ہیں۔
اس تحریک کے رہنما بیمال گورنگ ہڑتال شروع کرنے کے اعلان کے بعد سے روپوش ہیں۔ ان کے حامیوں پر پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے کے الزامات کے علاوہ دکانداروں کو اپنی دکانیں بند رکھنے کے لیے دھمکیاں دینا بھی شامل ہیں۔
مغربی بنگال کی پولیس نے بیمال گورنگ کے کئی دفاتر میں چھاپے مار کر ان کے حامیوں کو حکومتی دفاتر اور گاڑیاں جلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ بیمال گورنگ کے حامیوں نے ان چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف وزیرِ اعلیٰ ممتا بینر جی کے پتلے نذر آتش کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دارجیلنگ میں گذشتہ ماہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کو پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا۔ ان پرتشدد مظاہروں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ زخمی ہونے والوں میں 30 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
دارجیلنگ کو علحیدہ ریاست بنانے کے لیے سنہ 1980 کی دہائی میں مظاہرے ہوئے تھے جن میں 1,200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ یہ مظاہرے اس وقت ختم ہوئے جب گورکھا رہنما نے الگ ریاست کے مطالبے کی بجائے خود مختار کونسل پر رضامندی ظاہر کی جس میں علاقے کی خود مختاری کی ضمانت دی گئی تھی۔
تمام تصاویر بشکریہ سیبل داس۔