قانون کی بالادستی کی ’سزا‘، خاتون پولیس افسر کا تبادلہ

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/SHRESHTHA SINGH
انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے گروپ کے خلاف ڈٹ جانے والی خاتون پولیس افسر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔
پولیس افسر سریشتھا ٹھاکر نے بی جے پی کے بعض مقامی رہنماؤں پر ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ عائد کیا تھا جس پر سیاسی کارکنان ان سے الجھ پڑے۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
سریشتھا ٹھاکر نے فیس بک پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں لکھا ہے کہ انھیں بتایا گيا ہے کہ ان کا تبادلہ معمول کا عمل ہے، لیکن جس طرح سے تبادلے ہوتے ہیں ان اصولوں کے مطابق ابھی تقریباً ایک برس تک ان کا تبادلہ نہیں ہونا تھا۔
بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا: ’کہا تو اسے روٹین ٹرانسفر جا رہا ہے، لیکن میرے بیچ کے کسی اور افسر کا ٹرانسفر نہیں ہوا ہے اور طریقہ کار یہ تھا کہ دو سال سے اوپر والوں کا ہی ٹرانسفر کیا جائے گا۔ مجھے تو یہاں صرف آٹھ مہینے ہی ہوئے تھے۔'

،تصویر کا ذریعہA. SHUKLA
ریاستی حکومت کے اس فیصلے پر لوگوں نے غم و غصہ ظاہر کیا ہے۔
بی جے پی کے جن مقامی رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چيت کا ویڈیو وائرل ہوئی تھی اس میں وہ تلخ لہجے میں ان سیاست دانوں سے کہتی ہوئی سنی جا سکتی ہیں کہ ’وزیر اعلیٰ سے لکھوا کر لاؤ کہ پولیس کو گاڑیوں کی چیکنگ اور ٹریفک کی خلاف ورزی پر چالان کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
سریشتھا ٹھاکر کا کہنا ہے کہ پولیس افسران احترام کے مستحق ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق ان کا تبادلہ ضلع بہرائج میں کر دیا گيا جو نیپال کی سرحد سے ملحق علاقہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSHRESHTHA THAKUR
انھوں نے بی بی سی سے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کا تبادلہ بطور سزا کیا گيا ہے یا پھر اچھا کام کرنے کے لیے بطور انعام ایسا کیا گيا ہے۔ لیکن انھوں نے اس خبر کو مثبت انداز سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 88 پولیس افسران کا تبادلہ کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ اپنی جماعت کے کارکنان سے صلاح و مشورے کے بعد کیا گيا ہے۔
لیکن سریشتھا ٹھاکر کے تبادلے کی خبر سے لوگوں میں غصہ ہے۔ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پراس کے خلاف آزاز اٹھائی اور اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا ہے کہ جس افسر نے اپنے فرائض ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی اسی کی چھٹی کر دی گئی۔
لیکن حکومت کے حامی کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تبادلے تو ہوتے رہتے ہیں اور اس پر بہت زیادہ رد عمل کی ضرورت نہیں ہے۔







