کشمیر: فوج کی جانب سے محاصرے کے بعد مظاہرے

انڈیا، کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی علاقوں میں طلبا و طالبات احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس سری نگر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں کی شدت اور تشدد میں اضافے کے بعد فوج نے جنوبی کشمیر میں وسیع علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں طلبا و طالبات احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

جنوبی کشمیر کے شہروں، پلوامہ اور کولگام میں بینک ڈکیتیوں کی کئی وارداتوں کے بعد فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے درجنوں دیہاتوں کا محاصرہ کر کے شدت پسندوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

فورسز نے جمعرات کی صبح شوپیان ضلع کے درجنوں دیہاتوں کا محاصرہ کیا جس کے دوران لوگوں نے مزاحمت کی۔ مظاہرین نے محاصرے کے خلاف احتجاج کیا جب کہ سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

انڈیا، کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں نو اپریل کے ضمنی انتخابات کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوپیان کا محاصرہ محض بینک لوٹنے والوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہاں درجنوں مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جنہیں تلاش کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر ان علاقوں میں گشت کر رہے تھے۔

پولیس نے بینکوں پر حملہ کرنے والوں کی معلومات دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثنا شمالی کشمیر کے سوپور قصبے کے تعلیمی اداروں میں جمعرات کی صبح جیسے ہی معمول کی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو طلبا و طالبات نے ہند مخالف مظاہرے کیے۔ پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں چھ لڑکیاں زخمی ہوگئیں جب کہ درجنوں بیہوش ہوگئیں۔

واضح رہے کہ مسلح حملوں اور مظاہروں کی شدت میں اضافے کے بعد جنوبی کشمیر میں انڈین پارلیمان کی ایک نشست کے لیے مجوزہ ضمنی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں۔

انڈیا، کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمظاہروں میں طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات بھی شریک ہو رہی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ نو اپریل کو ضمنی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک ہی دن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انڈیا، کشمیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمظاہروں کی وجہ سے حکومت نے تعلیمی اداروں میں غیر معینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران سکولوں اور کالجوں کے طلبا نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں میں غیر معینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کے قریبی ضلع کپوارہ میں پنزگام فوجی کیمپ پر جمعرات کو علی الصبح مسلح شدت پسندوں نے 'خود کش' حملہ کیا جس میں ایک افسر سمیت تین فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں دو حملہ آور مارے گئے۔

گذشتہ برس جولائی میں نوجوان عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی تصادم میں ہلاکت کے بعد ایسی ہی تحریک چلی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔