آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر: فوج کی جانب سے محاصرے کے بعد مظاہرے
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس سری نگر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں کی شدت اور تشدد میں اضافے کے بعد فوج نے جنوبی کشمیر میں وسیع علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں طلبا و طالبات احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے شہروں، پلوامہ اور کولگام میں بینک ڈکیتیوں کی کئی وارداتوں کے بعد فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے درجنوں دیہاتوں کا محاصرہ کر کے شدت پسندوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
فورسز نے جمعرات کی صبح شوپیان ضلع کے درجنوں دیہاتوں کا محاصرہ کیا جس کے دوران لوگوں نے مزاحمت کی۔ مظاہرین نے محاصرے کے خلاف احتجاج کیا جب کہ سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوپیان کا محاصرہ محض بینک لوٹنے والوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہاں درجنوں مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جنہیں تلاش کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر ان علاقوں میں گشت کر رہے تھے۔
پولیس نے بینکوں پر حملہ کرنے والوں کی معلومات دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا شمالی کشمیر کے سوپور قصبے کے تعلیمی اداروں میں جمعرات کی صبح جیسے ہی معمول کی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو طلبا و طالبات نے ہند مخالف مظاہرے کیے۔ پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں چھ لڑکیاں زخمی ہوگئیں جب کہ درجنوں بیہوش ہوگئیں۔
واضح رہے کہ مسلح حملوں اور مظاہروں کی شدت میں اضافے کے بعد جنوبی کشمیر میں انڈین پارلیمان کی ایک نشست کے لیے مجوزہ ضمنی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل گذشتہ ماہ نو اپریل کو ضمنی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک ہی دن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس دوران سکولوں اور کالجوں کے طلبا نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں میں غیر معینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔
گذشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کے قریبی ضلع کپوارہ میں پنزگام فوجی کیمپ پر جمعرات کو علی الصبح مسلح شدت پسندوں نے 'خود کش' حملہ کیا جس میں ایک افسر سمیت تین فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں دو حملہ آور مارے گئے۔
گذشتہ برس جولائی میں نوجوان عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی تصادم میں ہلاکت کے بعد ایسی ہی تحریک چلی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔