انڈین فلمیں انتہا پسندوں کے نرغے میں؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

فلم ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی پر جمعے کے روز جے پور میں ایک فلم کی شوٹنگ کی دوران انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے حملہ کیا۔ سنجے بھنسالی جے گڑھ قلعے میں اپنی فلم 'پدماوتی' کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ یہ فلم چتوڑ کی رانی پدمنی پر بن رہی ہے۔

بھنسالی پر حملہ کرنی سینا کے کارکنوں نے کیا۔ حملہ آوروں نے شوٹنگ کا سٹ تباہ کر دیا، کیمرا اور دوسرے ساز و سامان کو نقصان پہنـچایا اور بھنسالی کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔

کرنی سینا کا کہنا ہے کہ اس فلم میں دہلی سلطنت کے سلطان علاؤالدین خلجی کو ایک منظر میں خواب میں رانی پدمنی کو پیار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کرنی سینا کا دعویٰ ہے کہ رانی پدمنی نے خلجی کی آمد کی خبر سن کر اپنی ساتھیوں کے ساتھ جوہر کر لیا تھا یعنی آگ میں کود کر جان دے دی تھی۔

سینا کا کہنا ہے کہ بھنسالی اپنی فلم میں تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سینا نے اس سے پہلے آشوتوش گواریکر کی فلم 'جودھا اکبر' کے خلاف بھی احتجاج کیا تھا۔ 2014 میں سینا کے کارکنوں نے جودھا اکبر نام کے ایک ٹیلی ویژن سیریل کے خلاف ٹی وی چینل کے دفتر بھی حملہ بھی کیا تھا۔

بھنسالی نے اس سے پہلے ایک مراٹھا پیشوا اور اور مسلم شہزادی کے رومانس پر 'باجی راؤ مستانی' نام کی فلم بنائی تھی۔ اس کے خلاف بھی بعض مراٹھا سخت گیر تنظیموں نے اعتراض کیا تھا۔ فلم کے مسودے اور کہانی پڑھنے کے بعد ہی فلم آگے بڑھ پائی تھی۔

انڈیا میں فلم عوام اور معاشرے پر اثر انداز ہونے کا سب سے موثرذریعہ ہے۔ انڈین فلمیں سیاست اور میڈیا میں بڑھتی ہوئی نفرتوں اور منفیت کا ابھی تک شکار نہیں بن سکی ہیں۔ کہانی اور آرٹ کے نقطۂ نظر سے یہ فلمیں کوئی گہرا تصور نہیں پیش کرتیں اور ان کی نوعیت بنیادی طور پر تفریحی ہوتی ہے۔

عمومآ یہ فلمیں محبت اور رومانس کے گرد بنتی ہیں، لیکن ان سبھی میں محبت، رواداری اور ہم آہنگی کے پیغامات ضرور شامل ہوتے ہیں۔ ان فلموں کا تاثر مثبت ہوتا ہے اور یہ نفرتوں کے خلاف ہوتی ہیں۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کے سخت گیر عناصر فلموں کے مثبت اثرات سے ہمیشہ خوفزدہ رہے ہیں اور فلموں کے خلاف تبلیغ کرتے رہے ہیں۔ بعض علما تو اس حد تک چلے گئے کہ انھوں نے فلم دیکھنے کو ہی مذہب کے خلاف عمل قرار دیا تھا۔

گذشتہ دو دہائیوں سے ملک میں اعتدال پسندی، سائنسی نظریات اور رواداری شدید دباؤ میں ہے۔ ادب، مصوری، میڈیا اور اظہار کے سبھی ذرائع سخت آزمائشوں سے گزر رہے ہیں۔

کبھی ثقافت، کبھی تاریخ تو کبھی اداکاروں کی قومیت کے نام پر فلموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سخت گیر تنظیمیں باضابطہ پریس کانفرنس کے ذریعے اور بیان دے کر تھیٹروں کو نقصان پہنچانے کی کھلے عام دھمکیاں جاری کرتی ہیں۔ ان تنظیموں اور گروہوں کو سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

صرف فلم ہی ایک ایسا میڈیم بچا ہے جو ابھی تک تقافتی اور مذہبی سخت گیروں کے حملے کی مزاحمت کرتا رہا ہے۔ یہ فلمیں معاشرتی اصلاح کے لیے نہیں خالصتآ تجارتی منافع کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ یہ تجارتی نقصان سہنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اگر یہ حملے کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے تو فلم بھی سخت گیر نظریات کے حملوں کی زیادہ دنوں تک مزاحت نہیں کر سکے گی۔

پچھلے دنوں دانشوروں کی ایک کانفرنس میں ملک کے معروف نغمہ نگار اور کہانی کار جاوید اختر سے کسی نے سوال کیا تھا کہ کیا ملک میں عدم روادری بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے جواب دیا 'یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن 1983میں بننے والی مشہور فلم 'جانے بھی دو یارو' اگر آج کوئی بنانا چاہے تو شاید نہیں بنا سکے گا۔'