انڈین جھنڈے والے ڈور میٹ کی فروخت پر ایمازون کی معذرت

انڈین پرچم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں قومی پرچم کی توہین ایک ایسا جرم ہے کہ قصوروار پائے جانے پر جرمانہ سمیت قید کی سزا ہوسکتی ہے

آن لائن سامان بیچنے والی بین الاقوامی کمپنی ایمازون نے کینیڈا کی اپنی ویب سائٹ پر انڈین پرچم والے ڈور میٹ فروخت کرنے پر مافی مانگ لی ہے۔

انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے اس پر سخت تنقید کی گئی تھی جس کے بعد ایمازون نے بدھ کو ہی اپنی ویب سائٹ سے اس پروڈکٹ کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

انڈیا میں کمپنی کے نائب صدر امت اگراول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی کمپنی انڈین قوانین اور روایات کے احترام کے لیے پر عزم ہے۔

انھوں نے کہا: 'ایمازون نے نہیں بلکہ ایک تیسری پارٹی نے اس کی فروخت کے لیے کینیڈا میں انھیں سائٹ پر لسٹ کیا تھا، ایمازون کو اس پر افسوس ہے۔ انڈین جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ہماری قطعی کوئی نیت نہیں تھی۔'

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایمازون کو انڈیا کے جھنڈے والے ڈورمیٹ فروخت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایمازون اس کے لیے غیر مشروط معافی مانگے اور ان ڈور میٹس کی فروخت کو فوری طور پر روکے۔

سشما سواراج

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسشما سواراج نے کہا تھا کہ اگر ایمازون نے معافی نہیں مانگی ایمازون کے حکام کے انڈین ویزے منسوخ کر دیے جائيں گے

انھوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ایمازون ایسا نہیں کرے گا تو انڈیا ایمازون کے حکام کے انڈین ویزے منسوخ کر دے گا اور مزید ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

انڈیا میں قومی پرچم کی توہین ایک ایسا جرم ہے کہ قصوروار پائے جانے پر جرمانہ سمیت قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

گذشتہ برس بھی ایمازون پر بعض ہندو دیوی دیوتاؤں والی ایک ڈور میٹ فروخت کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی جس پر بھی کافی تنازع ہوا تھا۔

انڈیا میں آن لائن سامان فروخت کرنے والی سب سے بڑي کمپنی فلپکارٹ ہے اور ایمازون کے ساتھ میں بازار میں شراکت داری کے تعلق سے اس کا جھگڑا چل رہا ہے۔