آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی میں انڈین میڈیا کی دلچسپی

ڈی جی آئی ایس آئی

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنلفٹیننٹ جنرل نوید مختار کور کمانڈر کراچی کے فرائص انجام دے رہے تھے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی

پاکستان میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تقرری پر انڈین میڈیا کی کافی دلچسپی نظر آئی اور اس خبر کو ٹی وی چینلوں اور اخبارات نے کافی اہمیت دی ہے۔

انگریزی کے اخبار ٹائمز آف انڈیا کی سرخی ہے ' پاک فوج کے چیف نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی چھٹی کی۔'

پاکستانی فوج میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی پر انڈیا میں خاص دلچسپی رہتی ہے کیونکہ یہاں یہ عام تاثر ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی حکومت انڈیا سے متعلق تمام اہم فیصلے فوج سے صلاح و مشورے کے بعد یا اس کے کہنے پر ہی کرتی ہے۔

جنرل قمر باجوہ کی تقرری کے بعد بھی انڈیا میں اس بات پر بہت تجزیے اور تبصرے ہوئے تھے کہ انڈیا کے بارے میں ان کے کیا نظریات ہیں اور ان کے کمان سنبھالنے کے بعد کیا پاکستان کی انڈیا یا کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے یا نہیں۔

انڈیا کا دیرینہ الزام ہے کہ یہاں پیش آنے والی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں آئی ایس آئی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان کے ایک حلقے اور آئی ایس آئی کی اعانت کے بغیر ممبئی جیسے بڑے حملے ممکن نہیں ہیں۔

اخبار کے مطابق جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو 'اچانک' ہٹا کر اس عہدے کی ذمہ داری لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو سونپی ہے۔

ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جنرل مختار کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ بنایا ہے جو پہلے انسداد دہشتگردی ونگ کے چیف تھے۔

انڈیا میں جنرل باجوہ کی تقرری کے بعد ان سے منسوب اس بیان پر بھی کافی بحث ہوئی تھی کہ پاکستان کواصل خطرہ اندرون ملک سرگرم شدت پسندوں سے ہے۔

اخبار کے مطابق کراچی میں جس آپریشن کے بعد سکیورٹی کے حالات بہتر ہوئے تھے اس کی سربراہی جنرل مختار نے ہی کی تھی۔

اخبار اکنامک ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے سب اہم عہدوں میں شامل ہے اور 'آئی ایس آئی کو لمبے عرصے سے انڈیا کے خلاف سرگرم شدت پسندوں اور افغان طالبان کی مدد کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔'