پابندی ختم، خواتین حاجی علی درگاہ میں داخل ہو گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کے شہر ممبئی میں خواتین کا ایک گروپ حاجی علی درگاہ کے اندرونی مزار میں چار سال بعد داخل ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹ نے خواتین پر اس درگاہ کے اندرونی مزار میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
ممبئی ہائی کورٹ نے اگست میں اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا 'یہ فیصلہ آئین کی خلاف ورزی' اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک تھا۔
حاجی علی درگارہ ٹرسٹ نے پہلے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم گذشتہ ماہ اس پابندی کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
انڈیا میں حالیہ مہینوں کے دوران خواتین کو مذہبی مزارات پر جانے کی اجازت دینے کے لیے متعدد مہمات شروع کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ سنہ 2011 میں عورتوں کو مزار کے اندر جانے کی اجازت تھی لیکن بعد میں ٹرسٹ نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرسٹ کا موقف تھا کہ خواتین کو صوفی مردوں کے مزاروں کو چھونے کی اجازت دینا 'گناہ' ہے۔
مسلمان خواتین کے لیے سرگرم ایک تنظیم مسلم مہیلا آندولن (بی ایم ایم اے) نے بی بی سی کو بتایا کہ 100 خواتین پر مشتمل ایک گروپ منگل کو معروف درگاہ حاجی علی میں داخل ہو گیا۔
بی ایم ایم اے نے 15 ویں صدی میں قائم ہونے والی اس درگاہ پر خواتین کے داخلے پر پابندی کو چیلنج کر رکھا تھا۔
بھارت میں عام طور پر مزاروں اور مندروں کے اندر خواتین کے داخلے پر پابندی عائد ہے جس کے خلاف خواتین کی تنظیموں نے مہم چلا رکھی ہے اور عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔







