20 ارب نوٹ کیسے تلف ہوں گے؟

،تصویر کا ذریعہAP
انڈین حکومت نے کالے دھن پر قابو پانے کے لیے 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے سبب سینٹرل بینک کو اب ایک تخمینے کے مطابق تقریباً 20 ارب پرانے نوٹوں کو ضائع کرنا ہو گا۔
اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں گذشتہ مارچ تک تقریباً 90 ارب کرنسی نوٹ گردش میں تھے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پابندی کے سبب کتنی بڑی تعداد میں ناکام نوٹوں کو تلف کرنا ہو گا۔
عام طور پر زیادہ تر مرکزی بینک خراب یا پھر بعض اچھے کرنسی نوٹوں کو تلف کر کے ان کی جگہ نئے نوٹ تیار کرنے کا کام مسلسل کرتے رہتے ہیں۔
ریزرو بینک آف انڈیا بھی ایسے نوٹوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انھیں چورہ نما ایندھن میں تبدیل کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن سینٹرل بینک کے ایک سینیئر اہل کار کا کہنا کہ کہ کرنسی نوٹوں سے تیار کیا گيا کاغذ کا ایسا بھوسا کسی بھی کام کا نہیں ہوتا۔
انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ 20 ارب نوٹوں کو تباہ کرنا ان کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔ گذشتہ برس اور رواں برس میں ہی ریزرو بینک آف انڈیا نے تقریبا 16 ارب صحیح نوٹ ضائع کیے ہیں۔ سنہ 2013 اور 14 میں بھی جب تقریباً پانچ لاکھ نوٹ جعلی پائے گئے تھے تو 14 ارب نوٹ تباہ کیے گئے تھے۔
بینک کے ایک اہلکار نے بتایا: 'اتنی زیادہ کرنسی کو ضائع کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس نوٹوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی بڑی مشینیں ہیں۔ یہ خودکار مشینیں ہیں جو کرنسی نوٹوں کے باریک سے باریک ٹکڑے کر کے رکھ دیتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سینٹرل بینک کے پاس نوٹوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر چورہ بنانے کے لیے ملک کے 19 مختلف دفتروں میں 27 مشینیں ہیں جو ایسے تمام نوٹوں کو کاٹ کر باریک بھوسا بنا دیں گی جسے بعد میں کوڑا پھینکنی والی جگہوں پر پھینک دیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض دفعہ کرنسی نوٹوں کے ایسے ٹکڑوں کو فائل، کیلینڈر، پیپر ویٹ اور کاغذ سے بننے والی بہت سی اشیا تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں بھی کرنسی نوٹوں کو تباہ کرنے کا یہی طریقہ ہے جہاں جعلی نوٹوں کی شناخت کے لیے انھیں پہلے خفیہ ایجنسیوں کے پاس بھیجا جاتا ہے پھر جو خراب نوٹ ہوتے ہیں ان کے باریک ٹکڑے کر کے انھیں کوڑے میں پھینک دیا جاتا ہے یا پھر جو لوگ بینک آتے ہیں، انھیں ایسے بعض نوٹ بطور یاد گار پیش بھی کیے جاتے ہیں۔







