BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 March, 2009, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حالات بگڑے تو مقدمہ درج ہوگا‘

وکلا
پاکستان میں وکلا کی تحریک کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں
مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ اگر وکلاء کے لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران کوئی جانی اور مالی نقصان ہوا تو شریف برادران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

حکومت نے و کلاء کے دھرنے کو اسلام آباد سے دور رکھنے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔

سوموار کو اسلام آباد میں نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے داخلہ امور کے مشیر نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کے بعد میاں نواز شریف نے پنجاب پولیس سے کہا کہ ’موجودہ حکومت کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں اس کے بعد انہوں نے لاہور کے ایک جلسہ میں کہا کہ وہ علم بغاوت بلند کرتے ہیں اور عوام سے کہا کہ ملک میں انقلاب لانے کے لیے وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کریں۔‘

رحمان ملک نے کہا کہ جب بغاوت اور لوگوں کو اکسانے کی باتیں ہو رہی ہیں
’تو میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس لانگ مارچ میں کسی کی جان گئی، کسی کی املاک کو نقصان پہنچا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور لاشوں کی سیاست کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ایف آئی آر میں عملاً بغاوت بلند کرنے والوں کا نام ہو گا۔‘

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف بغاوت کا علم بلند کرنے کا کھلے عام اعلان کر چکے ہیں جو قانون کے مطابق بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی سزا عمر قید اور جرمانہ ہے۔

رحمان ملک نے کہا وکلاء کا لانگ مارچ اپنے اصل مقاصد سے ہٹ چکا ہے اور اب یہ ایک سیاسی اکھاڑہ بننے جا رہا ہے جس میں ایک طرف وکلاء ہیں اور دوسری جانب وزیراعلٰی شہباز شریف کے نعرے لگ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کے پر امن احتجاج کو روکنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تاہم وکلاء سے کہا جائے گا کہ وہ شاہرہ دستور پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کی بجائے شہر کے مضافات میں کسی جگہ پر احتجاج کریں اور دھرنا دیں۔

رحمان ملک کے مطابق وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اسلام آباد کی گلیوں میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ جو لوگ بغاوت کا اعلان کر چکے ہیں تو ’ ہم کیوں نہ یہ سمجھیں کہ آپ بغاوت کو بغاوت در کر دیں گے اور ان کے پیچھے کون سے عناصر ہونگے جو دارالحکومت میں حکومت کی رٹ کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پہلے بھی تخریب کاری کے واقعات پیش آ چکے ہیں اور اگر شہر کی سڑکوں پر لوگ آتے ہیں تو ایسے واقعات دوبارہ پیش آ سکتے ہیں اس لیے کسی کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے سکیورٹی کے موثر ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

رحمان ملک نے کہا کہ دھرنے کی متبادل جگہ کے لیے وکلاء سے مذاکرات کرنے کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد سمیت اعلٰی حکام پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو وکلاء کو شاہراہ دستور کی بجائے کسی متبادل جگہ پر سپیکر کارنر بنا کر پر امن احتجاج کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

واضع رہے کہ اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جسکے تحت شہر میں وال چاکنگ اور ہر قسم کے جلسے جلوس پر پابندی عائد ہے۔

دوسری جانب وکلاء تحریک کے رہنما اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے بتایا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہی دھرنا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کا لانگ مارچ اور دھرنا پر امن ہو گا اور اس حوالے سے وکلاء نے ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے جس کے تحت دھرنے کے مقام پر کوئی سٹیج ، لاوڈ سپیکر اور بینرز کا استعمال نہیں کیا جائے گا جبکہ تمام سیاسی جماعتیں بھی ضابطہ اخلاق کی پابند ہونگی۔

علی احمد کرد کے مطابق جب وہ بارہا اپنے اس عزم کو دوہرا چکے ہیں کہ وکلاء کا دھرنا پر امن ہوگا تو اس صورت میں دھرنے کا مقام تبدیل کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے اور نہ وہ کسی دوسری جگہ دھرنا دینے کا سرکاری مطالبہ مانیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے اگر وکلاء رہنماؤں کو گرفتار کرتی ہے یا گھروں میں نظر بند کیا جاتا ہے اور لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو اس صورت میں ’ ہم نے ایک متبادل حکمت عملی طے کر رکھی ہے جس کو ابھی میڈیا پر بیان نہیں کیا جا سکتا ہے‘ ۔

مبصرین کے مطابق اگر وکلاء دھرنے کے لیے شاہرہ دستور پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کے بجائے کسی اور متبادل جگہ پر رضامند نہیں ہوتے تو اس صورت میں امکان ہے کہ حکومت وکلاء کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گی۔

خواتین قیدی
پاکستان میں کئی غیر ملکی خواتین بھی قید
معزولی درست تھی
چیف جسٹس کی معزولی درست فیصلہ، مشرف
اسی بارے میں
اسلام آباد: نیا چیف جسٹس
09 March, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد