BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 March, 2009, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
از سرِ نو سکیورٹی جائزے کافیصلہ

سکیورٹی
سکیورٹی میں اضافے کے لیے مزید دو ہزار کے قریب افراد کو بھرتی کیا جائے گا

پاکستانی حکومت نے منگل کو لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے جان لیوا حملے کے بعد اہم شخصیات اور پاکستان میں غیر ملکی سفارتکاروں کی سکیورٹی کا از سرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ضمن میں چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز سمیت وفاقی تحقیقاتی ادارے اور پولیس ریسرچ بیورو سے تجاویز طلب کی گئی ہیں اور اس حوالے سے اہم اجلاس آئندہ چند روز میں متوقع ہے جس میں ان تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اہم شخصیات کی سکیورٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تربیت کے لیے امریکہ، جرمنی اور فرانس اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں بھیجنے پر غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ چند سال سےقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تربیت کے لیے بیرونی ممالک بھیجنے میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ پاکستان میں تعینات مختلف ملکوں کے سفارتکاروں نے متعدد بار حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اپنے اپنے ملکوں میں تربیت دینے کی پیشکش کی ہے۔

ذرائع کے مطابق سفارتکاروں اور اہم شخصیات کی سکیورٹی میں اضافے کے لیے مزید دو ہزار کے قریب افراد کو بھرتی کیا جائے گا اور اس ضمن میں متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ کارروائی کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

اہلکاروں کو تربیت کے لیے ترقی یافتہ ملکوں میں بھیجنے پر غور کیا جائے گا

حکومت نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو فراہم کی جانے والی سیکورٹی پر عدم اعتماد کا بھی اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کے ساتھ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے کے معاملے پر اُنہیں وی وی آئی پی سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی جو کسی ملک کے سربراہ کے لیے کی جاتی ہے۔

لاہور میں ہونے والے واقعہ میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ پولیس کی صرف چارگاڑیاں تھیں اس کے علاوہ ٹریفک وارڈن بھی اُن کے ہمراہ تھے جبکہ سکیورٹی کے حوالے سے تیار کی گئی بلیو بک کے مطابق وی وی آئی پی سکیورٹی کے لیے ایک گھنٹہ پہلے سکیورٹی کے دو روٹ لگائے جاتے ہیں اور آخری وقت پر بتایا جاتا ہے کہ فلاں روٹ سے جانا ہے اور دونوں روٹوں پر پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔

وی آئی پی سکیورٹی پلان کے مطابق جس منزل پر جانا ہوتا ہے اُس سارے راستے میں ایک سو سے لے کر دو سوگز کے فاصلے پر ایک پولیس اہلکار تعینات کیا جاتا ہے لیکن لاہور میں ہونے والےواقعہ میں روٹ نہیں لگایا گیا تھا اور پندرہ سے بیس پولیس اہلکار سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ تھے۔

پاکستان میں جب کسی بھی سربراہ مملکت کو سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے اُس میں بیس سے پچیس گاڑیاں ہوتی ہیں جن میں بُلٹ پروف گاڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ پاکستانی صدر یا وزیر اعظم کو بھی ملک کے اندر اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔

پاکستان میں سکیورٹی کے حساب سے صدر، وزیراعظم، سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے سپیکر بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ تاہم داخلہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک کو بھی صدر اور وزیراعظم کے درجے کی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

جنازے اور یادگاریں
لاہور حملے کا اگلا دن تصاویر میں
دو حملہ آورنشانہ: سری لنکن ٹیم
حملے کے بارے میں عینی شاہدین نے کیا کچھ بتایا
 لاہور میں ٹیم پر حملہسکیورٹی کے خدشات
غیرملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے بچتی رہی ہیں
لاہورجتنے منہ اتنی باتیں
ٹی وی تجزیہ نگاروں کی ’جلدبازیاں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد