لاہور حملہ، پاکستانی میڈیا کیا کہتا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو اگرچہ سبھی پاکستانی اخبارات نے شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے لیکن دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے پریس کو اس سانحے کے پس منظر میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی’را‘ کی شبیہ صاف دکھائی دے رہی ہے۔ روزنامہ نوائے وقت نے اس حملے کے بارے میں صفحہ اوّل کی آٹھ کالمی خبر کے نیچے ایک تین کالمی خبر کی سرخی میں کہا ہے: ’حملے میں را ملوث ہے۔ بھارتی دہشت گرد چند روز قبل پاکستان آئے۔ حکومت آگاہ تھی‘۔ اسی خبر کی ذیلی سرخی میں اخبار کہتا ہے کہ’متعلقہ سکیورٹی اداروں کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ ممبئی حملوں کے ردِّعمل کے طور پر کراچی یا لاہور میں کارروائی ہو سکتی ہے، اس کے باوجود انتظامات نہ کیے گئے‘۔ روزنامہ خبریں نے اپنے ادارتی صفحے پر ریٹائرڈ جنرل حمید گُل کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں مضمون نگار نے اس واقعے کی ذمہ داری بھارت پر عائد کرتے ہوئے لکھا ہے:’بھارت پاکستان کو دنیا میں ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔۔۔ وہ دنیا کی دوسری بڑی قوتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس کے ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنا چاہتا ہے‘۔ کثیرالاشاعت روزنامہ جنگ نے اپنے اداریے میں براہِ راست بھارت کو ملوث نہیں کیا اور صرف اتنا کہا ہے کہ:’اس میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا‘۔ اخبار نے اپنے رنگین صفحات پر اس سانحے کے بارے میں مفصّل تصویری فیچر شائع کیے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس نے صفحہ اول کے بالائی نِصف میں امریکی صدر اوباما کا یہ بیان سیاہ حاشیئے میں نمایاں کیا ہے کہ ’پاکستان میں صورتِ حال بدترین ہوگئی ہے‘۔ اخبار اپنے اداریے میں کہتا ہے کہ اب ’پاکستان میں کھیلوں کےمستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے‘۔ لِبرل پالیسی کے دعوے دار اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ اور ’آج کل‘ نے اس حملے کو کھُلے لفظوں میں القاعدہ کی کاروائی قرار دیا ہے اور روزنامہ دی نیوز نے زبان سے کھیلتے ہوئے کرکٹ کی اصطلاح میں سرخی جمائی ہے: جبکہ روزنامہ ڈان نے اس واقعے کو ممبئی کی دہشت گردی کا تسلسل گردانتے ہوئے صفحہ اوّل کی سات کالمی سرخی میں کہا ہے: اپنے اداریے میں روزنامہ ڈان لکھتا ہے کہ یہ کوئی عام دہشت گرد نہیں تھے بلکہ اعلیٰ تربیت یافتہ حملہ آور تھے۔ ان کا طریقِ واردات اُن لوگوں سے مختلف نہیں تھا جنھوں نے ممبئی میں تباہی پھیلائی تھی اور دونوں سانحات کے پس منظر میں عالباً ایک ہی تنظیم کارفرما ہے۔ ٹیلی ویژن کےنیوز چینل اگرچہ اس سانحے کے فوراً بعد ہی سرگرمِ عمل ہوگئے تھے لیکن کئی گھنٹے تک صرف سماء چینل کی تیار کردہ فوٹیج ہی اکثر چینلوں پر دہرائی جاتی رہی۔ سماء کا دفتر چونکہ عین لبرٹی چوک میں واقع ہے اس لیے حملے کا سارا ڈرامہ ایک طرح سے اُن کے صحن میں کھیلا جا رہا تھا اور اس کی عکس بندی وہ بہ سہولت وہ اپنی کھڑکی سے کر رہے تھے۔ تاہم جلد ہی دیگر چینل بھی اپنے کیمرے اور گاڑیاں لے کر موقع پر پہنچ گئے اور پھر ترسیلِ معلومات کی زور دار جنگ شروع ہوگئی۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر تھوڑی ہی دیر بعد لبرٹی چوک پہنچ گئے اور انھوں نے حملہ آوروں کے طریقِ کار کو ممبئی کی دہشت گردی کے مماثل قرار دیا۔ اس پر مختلف چینلوں سے فوری ردِعمل شروع ہوگیا اور اس موازنے کے حق میں اور مخالفت میں بھی دلائل کے طومار لگنے شروع ہوگئے۔ گذشہ رات کی تمام تر میڈیا بحث اس نکتے پر مرکوز رہی کہ حملہ آور بھارت کی ایجسنی را کے بھیجے ہوئے ہیں یا القاعدہ کا نیا تحفہ ہیں۔ ایک نیوز چینل نے سکرین کو دو حصّوں میں بانٹ کر ایک پر ممبئی حملوں اور دوسرے پر لبرٹی حملے کی فلم چلا دی تاکہ ناظرین خود دونوں وارداتوں کا موازنہ کر سکیں۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی میڈیا نے اپنی تمام تر گرم جوشی کے باوجود وہ انتہائی تلخ اور حد درجہ مخاصمانہ رویہ اپنانے سے گریز کیا جو سانحہء ممبئی کے موقع پر بھارتی میڈیا نے اپنایا تھا، البتہ اس تمام بحث و تمحیص کے دوران اُن بدقسمت پولیس والوں کی طرف بہت کم توجہ کی گئی جو مہمان کرکٹ ٹیم کا تحفظ کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم بُدھ کو میڈیا کی توجہ ہلاک شدہ چھ پولیس والوں کی جانب پوری طرح مبذول ہوئی ہے اور اُن کی نماز جنازہ کی فوٹیج کے علاوہ اندرونِ خانہ مناظر بھی دکھائے گئے جہاں ان کے عزیز و اقارب غم و اندوہ کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||