BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 March, 2009, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس ڈرائیورکی زبانی حملے کی کہانی
حملے کا منظر
بس پر گولی باری کے باوجود خلیل احمد نے ہمت سے کام لیا
سری لنکا کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی جس بس پر سوار تھے اس بس کے ڈرائیور خلیل احمد کا کہنا ہے کہ گولی باری سے وہ ڈر گئے تھے لیکن پھر ہمت سے کام لیا اور بس سٹیڈیم کے محفوظ مقام پر پہنچا دی۔

لاہور میں ڈرائیور خلیل احمد نے بی بی سی کی نمائندہ منا رانا کو بتایا کہ وہ روزانہ صبح سوا آٹھ بجے پی سی سے نکلتے لیکن آج صبح جیسے ہی وہ پی سی سےگلبرگ پہنچے گول چکر کے پاس گاڑی کی سپیڈ ٹرن لیتے ہوئے تھوڑی کم ہو گئی۔

اس کے ساتھ ہی سامنے سے ایک کار سے فائرنگ شروع ہوگئی۔’ابھی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہاں سے ایک اور بندا نکلا اس نے بھی فائرنگ شروع کر دی۔ پھر پیچھے سے ایک راکٹ آیا جو بس کو مس کرتا ہوا سیدھا زمین پر جا لگا اور دھماکے کی آواز سنائی دی۔‘

اس دوران سامنے سے ایک اور آدمی نکلا جس نے ہاتھ میں گرینیّڈ پکڑا ہوا تھا جو اس نے گاڑی کی طرف اچھالا لیکن وہ نیچے سے نکل گیا۔ ان افراد کی عمریں بیس سے پچیس سال کے درمیان تھیں۔ اسی بھگدڑ میں کمانڈو والے سائیڈ پر ہو گئے۔

خلیل نے مزید بتایا کہ اس وقت کچھ دیر کے لیے تو وہ بالکل ساکت ہو گئے۔ ’ذہن میں آیا کہ گیٹ کھول کر گاڑی سے بھاگ جاؤں پھر سوچا کہ بھاگنا کدھر ہے باہر بھی توگولیاں چل رہی ہیں۔ اللہ مالک ہے۔ اس وقت تک فائر صرف دو لوگوں کو لگے تھے۔‘

’اسی شش و پنج میں تھا کہ سری لنکا کی ٹیم کے پاکستانی انچارج ڈاکٹر مقدم کی آواز آئی کہ خلیل گاڑی بھگاؤ۔ تو بس پھر میں نے سپیڈ کی پروا کیے بغیر گاڑی بھگائی اور سیدھا سٹیڈیم کے اندر چلا آیا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد